۱۲۷۱ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ حُصَیْنٍ قَالَ، سَمِعْتُ مُجَاہِدًا یَقُوْلُ : صَلَّیْتُ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ، فَکَانَ یَقْرَأُ خَلْفَ الْاِمَامِ .قِیْلَ لَہٗ : قَدْ رُوِیَ ھٰذَا عَمَّنْ ذَکَرْتُمْ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ غَیْرِہِمْ بِخِلَافِ ذٰلِکَ .
١٢٧١: مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کے ساتھ ظہر و عصر پڑھی وہ امام کے پیچھے قراءت کرتے تھے۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ یہ قول اس سے مروی ہے جن کا تم نے تذکرہ کیا ان کے علاوہ دیگر اصحاب سے اس کے خلاف روایات ہیں۔ ملاحظہ ہوں
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ فی الصلاۃ ١؍٣٧٣۔
الجواب بالصواب : تم نے اگر عمر بن خطاب اور عبداللہ بن عمرو کے متعلق فاتحہ خلف الامام کی بات نقل کی ہے تو دیگر حضرات صحابہ کرام (رض) سے اس کے خلاف آثار مروی ہیں ملاحظہ ہوں۔