hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1302

.

الطحاوي

1302
Al Tahawi
۱۳۰۲ : حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ، عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ رَافِعٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، (عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ کَانَ اِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ کَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، وَیَصْنَعُ مِثْلَ ذٰلِکَ اِذَا قَضٰی قِرَائَ تَہٗ اِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ، وَیَصْنَعُہٗ اِذَا فَرَغَ وَرَفَعَ مِنَ الرُّکُوْعِ، وَلَا یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِیْ شَیْئٍ مِنْ صَلَاتِہٖ وَہُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَیْنِ رَفَعَ یَدَیْہِ کَذٰلِکَ وَکَبَّرَ) .
١٣٠٢: عبیداللہ بن ابی رافع علی بن ابی طالب (رض) سے اور وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں کہ جب وہ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند کرتے اور اسی طرح کرتے جبکہ اپنی قراءت پوری کر چکتے اور رکوع کا ارادہ کرتے اور اس وقت کرتے جب رکوع سے فارغ ہو کر رکوع سے سر اٹھاتے اور اپنی نماز میں کسی جگہ بھی ہاتھ نہ اٹھاتے جب قعدہ کرتے اور جب دونوں سجدوں سے اٹھتے تو اسی طرح ہاتھ بلند کرتے اور تکبیر کہتے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١١٦‘ نبمر ٧٤٤‘ ترمذی فی الصلاۃ با ٧٦‘ نمبر ٢٥٥۔
خلاصہ الزام : تکبیر افتتاح میں رفع یدین تو سب کے ہاں مسلم ہے البتہ تکبیر رکوع ‘ تکبیر سجود اور قعدہ سے قیام کی تکبیر رفع یدین امام شافعی ‘ امام احمد (رح) کے ہاں لازم ہے اور صحابہ کرام میں ابن عمر ‘ ابن عباس ‘ ابن زبیر اور ابوہریرہ (رض) اس کے قائل ہیں۔ فریق ثانی : ان تینوں مواقع میں رفع یدین نہیں یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابرہیم نخعی (رح) اور خلفاء راشدین ‘ ابن مسعود ‘ عشرہ مبشرہ کا طرز عمل ہے۔