hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1312

.

الطحاوي

1312
Al Tahawi
۱۳۱۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ، وَحِیْنَ یَرْکَعُ، وَحِیْنَ یَسْجُدُ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ، فَأَوْجَبُوا الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّکُوْعِ وَعِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّکُوْعِ، وَعِنْدَ النُّہُوضِ إِلَی الْقِیَامِ عَنِ الْقُعُوْدِ فِی الصَّلَاۃِ کُلِّہَا .وَخَالَفَہُمَا فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا لَا تَرَی الرَّفْعَ إِلَّا فِی التَّکْبِیْرَۃِ الْأُوْلٰی .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
١٣١٢: صالح بن کیسان نے اعرج اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع فرماتے اور جب رکوع کے لیے جھکتے اور جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کچھ علماء نے ان آثار کے پیش نظر رکوع کرتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت اور قیام کی طرف اٹھتے ہوئے تمام نماز میں ہاتھ اٹھانے کا قول اختیار کیا ہے۔ دیگر علماء نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں صرف تکبیر افتتاح میں رفع یدین ہے۔ ان کی دلیل یہ روایات ہیں۔
تخریج : ابن ماجہ فی اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا باب ١٥‘ نمبر ٨٦٠۔
حاصل روایات : پہلی روایت حضرت علی (رض) میں چار جگہ رفع یدین کا ذکر ہے تکبیر تحریمہ ٢: تکبیر رکوع نمبر ٣: تکبیر سجدہ نمبر ٤: سجدہ سے اٹھتے وقت نمبر ": ابن عمر (رض) کی روایت میں اٹھنے کے وقت کی تکبیر میں رفع یدین کا ذکر نہیں۔ نمبر ٣: ابو حمید (رض) کی روایت میں چار مرتبہ رفع یدین ہے۔ نمبر ٤: وائل بن حجر کی روایت میں تین مرتبہ بعینہٖ روایت ابن عمر کی طرح رفع یدین کا ذکر ہے۔ نمبر%: مالک بن حویرث میں رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت صرف دو مرتبہ رفع یدین کا ذکر ہے۔ نمبر ٦: ابوہریرہ (رض) کی روایت میں ابن عمر (رض) کی طرح تین مرتبہ رفع یدین کا ذکر ہے گویا ان روایات میں تکبیر افتتاح کے علاوہ دو جگہ یا تین جگہ رفع یدین کا ذکر وارد ہے اس سے ثابت ہوا کہ رفع یدین واجب ہے۔
مؤقف ثانی :
تکبیر افتتاح کے علاوہ اور کسی جگہ رفع یدین نہیں مندرجہ روایات ان کا مستدل ہیں۔