۱۳۲۷ : حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ أَوْ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، شَکَّ أَبُوْ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِذٰلِکَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَأَخْبَرَ أَنَّ مَا أَرْسَلَہُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، فَمَخْرَجُہٗ عِنْدَہٗ أَصَحُّ مِنْ مَخْرَجِ مَا ذَکَرَہٗ عَنْ رَجُلٍ بِعَیْنِہِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ .فَکَذٰلِکَ ھٰذَا الَّذِیْ أَرْسَلَہٗ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ لَمْ یُرْسِلْہُ إِلَّا وَمَخْرَجُہٗ عِنْدَہٗ أَصَحُّ مِنْ مَخْرَجِ مَا یَرْوِیْہِ عَنْ رَجُلٍ بِعَیْنِہِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ .وَمَعَ ذٰلِکَ فَقَدْ رَوَیْنَاہُ مُتَّصِلًا فِیْ حَدِیْثِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَکَذٰلِکَ کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یَفْعَلُ فِیْ سَائِرِ صَلَاتِہٖ .
١٣٢٧: وہب یا بشر بن عمر نے بیان کیا یہ ابو جعفر کو شک ہے انھوں نے شعبہ اور انھوں نے اعمش سے اس کو نقل کیا۔ ابو جعفر کہتا ہے کہ ابراہیم نخعی نے بتلایا کہ عبداللہ سے میرا ارسال کرنا وہ معینہ آدمی سے روایت ذکر کرنے سے زیادہ مضبوط ہے یہ روایت اسی طرح کی مرسل ہے اور یہ اس متصل سے اعلیٰ ہے جو ایک معینہ آدمی سے نقل کی جائے اور عبداللہ کی طرف نسبت کی جائے۔ ان تمام خوبیوں کے باوجود یہ روایت عبد الرحمن بن اسود کی سند سے متصل بھی منقول ہے اور حضرت عبداللہ اپنی تمام نمازوں میں اسی طرح کرتے تھے۔
مع ذلک سے دوسرے جواب کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ان سب روایتی خوبیوں کے باوجود متصل سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے ملاحظہ ہو۔