۱۳۴۱ : حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑالْجِیْزِیُّ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ زُرْعَۃَ، قَالَ : أَنَا حَیْوَۃُ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَجْلَانَ یُحَدِّثُ مَنْ سُمِّیَ، عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ قَالَ : (اشْتَکَی النَّاسُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التَّفَرُّجَ فِی الصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَعِیْنُوْا بِالرُّکَبِ) فَکَانَتْ ھٰذِہِ الْآثَارُ مُعَارِضَۃً لِلْاَثَرِ الْأَوَّلِ، وَمَعَہَا مِنَ التَّوَاتُرِ مَا لَیْسَ مَعَہٗ فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ ہَلْ فِیْ شَیْئٍ مِنْ ھٰذِہِ الْآثَارِ، مَا یَدُلُّ عَلٰی نَسْخِ أَحَدِ الْأَمْرَیْنِ بِصَاحِبِہٖ .فَاعْتَبَرْنَا ذٰلِکَ۔
١٣٤١: سمی نے ابو صالح سے انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ لوگوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز میں کھل جانے کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا گھٹنوں سے معاونت لو۔ پس یہ آثار پہلی روایت کے معارض ہیں اور ان کے ساتھ عمل کا تواتر بھی موجود ہے جو اس روایت کے ساتھ نہیں ہے۔ پس ہم چاہتے ہیں کہ ان آثار پر نگاہ ڈال کر ایسی روایت تلاش کریں جو کسی ایک کے نسخے پر دلالت کرے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٥٥‘ نمبر ٩٠٢‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ٩٦‘ ٢٨٦‘ نسائی فی التطبیق باب ٢‘ مسند احمد ٢؍٣٤٠۔
حاصل روایات : ان روایات سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ رکوع اور تشہد میں تطبیق اس طرح ہوگی کہ رکوع میں ہاتھ گھٹنوں کو گویا پکڑنے والے ہوں گے اور تشہد میں رانوں پر ہاتھ رکھے جائیں گے امام ابو جعفر طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تمام آثار اثر اول کے معارض ہیں اور یہ کثیر روایات ہیں جن کو تواتر کا درجہ حاصل ہے۔ اور پہلی روایت کو یہ درجہ حاصل نہیں پس اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا دیگر آثار میں کوئی ایسی چیز موجود ہے جو کسی ایک کے نسخ پر دلالت کرتی ہو۔