hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1360

.

الطحاوي

1360
Al Tahawi
۱۳۶۰ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ سَعِیْدِ ڑ الْمَقْبُرِیُّ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ نَحْوَہٗ۔فَأَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ بِالْفَرْضِ الَّذِیْ لَا بُدَّ مِنْہُ، وَلَا تَتِمُّ الصَّلَاۃُ إِلَّا بِہٖ .فَعَلِمْنَا أَنَّ مَا سِوٰی ذٰلِکَ إِنَّمَا أُرِیْدَ بِہٖ أَنَّہٗ أَدْنَیْ مَا یُبْتَغٰی بِہٖ الْفَضْلُ، وَإِنْ کَانَ ذٰلِکَ الْحَدِیْثُ الَّذِیْ ذٰلِکَ فِیْہِ مُنْقَطِعًا عَنْہُ غَیْرَ مُکَافٍ لِہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ فِیْ إِسْنَادِہٖمَا وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدٍ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی.
١٣٦٠: سعید بن ابی سعید المقبری نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے اور انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں روایات میں اس فرض مقدار کی نشاندہی کردی کہ جس کے بغیر چارہ کار نہیں اور نہ نماز اس کے بغیر پوری ہوتی ہے۔ پس اس سے معلوم ہوگیا کہ اس کے علاوہ جو مقدار ہے اس کا مقصود فضیلت کا کم سے کم درجہ پالینا ہے۔ اور وہ حدیث جو اس سلسلے میں نقل کی گئی وہ منقطع ہے۔ ان دو روایتوں کی سند کے لحاظ سے مقابل نہیں بن سکتی۔ امام ابوحنیفہ ‘ امام ابو یوسف ‘ امام محمد (رح) کا یہی قول ہے۔
تخریج : بخاری فی الاذان باب ١٢٢‘ مسلم فی الصلاۃ ٤٥‘ نسائی فی الافتتاح باب ٧‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٤٤‘ نمبر ٨٥٦‘ مسند تخریجاحمد ٣؍٤٣٧‘ بیہقی فی السنن الکبرٰی ٢؍٨٨؍١١٧۔
حاصل روایات : فرض کی مقدار رکوع و سجود کی حالت کا اطمیان حاصل ہونا ہے اس سے زائد نہیں معلوم ہوا کہ نماز اس کے بغیر نہیں ہوتی باقی درجہ استحباب میں ہے۔
جواب روایت مؤقف اوّل :
تین دفعہ تسبیح والی روایت فضیلت کا کم سے کم درجہ ہے اس سے اوپر پانچ اور پھر سات مرتبہ ہے اور رفاعہ والی روایت میں اصل فرض کا تذکرہ ہے فعلمنا سے جواب اول اور ان کان ذلک سے جواب ثانی کی طرف اشارہ ہے۔
جواب نمبر ": یا اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ روایت ابن مسعود (رض) منقطع ہے کیونکہ عون بن عبداللہ کا سماع ابن مسعود (رض) سے ثابت نہیں۔
جواب ثالث : اگر منقطع نہ بھی ہو تب پر روایت ابوہریرہ (رض) اور رفاعہ (رض) کا مقابلہ نہیں کرسکتی پس احسن صورت تطبیق ہے جو ہم نے اختیار کی واللہ اعلم۔
یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
نوٹ : یہ باب نظر طحاوی (رح) سے خالی ہے اس میں مؤقف دوم کے لیے چند روایات پیش کر پائے ہیں شاید کہ انہی پر اکتفاء کرلیا ہو۔