۱۳۶۵ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ ڑالتَّیْمِیُّ قَالَ : أَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (نُہِیْتُ أَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاکِعٌ أَوْ سَاجِدٌ .فَأَمَّا الرُّکُوْعُ فَعَظِّمُوْا فِیْہِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُوْدُ فَاجْتَہِدُوْا فِی الدُّعَائِ فَقَمِنٌ أَنْ یُسْتَجَابَ لَکُمْ) .
١٣٦٥: عبدالرحمن بن اسحاق نے نعمان بن سعد اور انھوں نے علی (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رکوع و سجدہ کی حالت میں مجھے قراءت سے منع کیا گیا ہے رکوع میں تو اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرو اور سجدہ میں خوب دعا کرو سجدہ کی دعا اس لائق ہے کہ مقبول ہوجائے۔
تخریج : مسلم فی الصلاۃ نمبر ٢٠٧‘ ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٤٨‘ نمبر ٨٧٦‘ نسائی فی التطبیق باب ٨‘ نمبر ٦٢‘ دارمی فی الصلاۃ باب ٧٧‘ مسند احمد باب ١٣‘ ١٤‘ مسند احمد ١؍٩٥؍١٠٢۔
اللغات : قمین۔ اس لائق ہے۔ مناسب ہے۔