۱۳۷۳ : حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑالْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فُضَالَۃَ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ فَقَدْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّہٗ أَتٰی جَارِیَتَہٗ، فَالْتَمَسْتُہٗ بِیَدِیْ فَوَقَعَتْ یَدِیْ عَلٰی صُدُوْرِ قَدَمَیْہِ، وَہُوَ سَاجِدٌ یَقُوْلُ اللّٰہُمَّ إِ نِّیْ أَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَأَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ .
١٣٧٣: یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے انھوں نے عائشہ (رض) سے روایت نقل کی ہے میں نے ایک رات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گم پایا میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی لونڈی کے قریب گئے ہوں گے پس میں نے اپنے ہاتھ سے تلاش کیا تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں کے درمیان میں لگا آپ اس وقت سجدہ ریز تھے اور دعا فرما رہے تھے۔ اللہم انی اعوذ برضاک من سخطک واعوذ بعفوک من عقابک واعوذبک منک لا احصی ثناء علیک کما انت اثنیت علی نفسک اے اللہ ! میں آپ کی ناراضی سے آپ کی رضا کی پناہ میں آتا ہوں اور آپ کی معافی کے واسطہ سے آپ کے عقاب سے پناہ مانگتا ہوں اور آپ کی ذات کا واسطہ دے کر آپ کی (ناراضگی سے) پناہ مانگتا ہوں میں آپ کی اس طرح تعریف نہیں کرسکتا جیسی آپ نے اپنی تعریف کی ہے۔
تخریج : مسلم فی الصلاۃ نمبر ٢٢٢‘ مسند احمد ٦؍٥٨‘ ٢٠١۔