۱۳۷۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ صَالِحٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ یَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ، عَنْ سُمَیٍّ مَوْلٰی أَبِیْ بَکْرٍ عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ (أَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَہُوَ سَاجِدٌ : فَأَکْثِرُوْا الدُّعَائَ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ إِلٰی أَنَّہٗ لَا بَأْسَ أَنْ یَدْعُوَ الرَّجُلُ فِیْ رُکُوْعِہٖ وَسُجُوْدِہٖ بِمَا أَحَبَّ، وَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ - عِنْدَہُمْ - شَیْئٌ مُوَقَّتٌ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ : بِھٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَقَالُوْا : لَا یَنْبَغِیْ لَہٗ أَنْ یَزِیْدَ فِیْ رُکُوْعِہِ عَلَی " سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیْمِ " یُرَدِّدُہَا مَا أَحَبَّ، وَلَا یَنْبَغِیْ لَہٗ أَنْ یَنْقُصَ فِیْ ذٰلِکَ مِنْ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ وَلَا یَنْبَغِیْ لَہٗ أَنْ یَزِیْدَ فِیْ سُجُوْدِہِ عَلَی " سُبْحَانَ رَبِّی الْأَعْلٰی " یُرَدِّدُہَا مَا أَحَبَّ، وَلَا یَنْبَغِیْ لَہٗ أَنْ یَنْقُصَ ذٰلِکَ مِنْ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
١٣٧٧: سمی مولیٰ ابوبکر نے ابو صالح سے انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ بندہ اپنے اللہ تعالیٰ کے قریب سجدہ میں سب سے زیادہ ہوتا ہے اس لیے تم اس میں کثرت سے دعا کیا کرو۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ رکوع اور سجدے میں آدمی جو چاہے دعا کرسکتا ہے اور ان کے پاس کوئی مقررہ چیز موجود نہیں۔ گزشتہ روایات کو انھوں نے اپنا مستدل قرار دیا۔ جبکہ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ رکوع میں فقط ” سبحان ربی العظیم “ پڑھا جائے گا۔ اس پر اضافہ جائز نہیں۔ البتہ اس کو متعدد بار دہرانے میں کوئی حرج نہیں اور تین مرتبہ سے کم کرنا مناسب نہیں۔ اور سجدے میں ” سبحان ربی الاعلٰی “ کو پڑھا جائے گا ‘ خواہ کتنی بار دہرائے۔ تین مرتبہ سے کم پڑھنا مناسب نہیں اور اس کے علاوہ اور چیز پڑھنا جائز نہیں۔ اور ان کی مستدل یہ روایات ہیں۔
تخریج : ابو داؤد ١؍٢٢٨۔
حاصل روایات : مختلف دعائیں سجدہ و رکوع کی نقل کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ سجدہ و رکوع میں جو دعا چاہے پڑھی جاسکتی ہے کوئی تسبیح و تعظیم کے کلمات متعین نہیں ہیں اور پہلے مؤقف والے حضرات کا یہی قول ہے۔
مؤقف ِثانی اور مستدل روایات :
رکوع و سجدہ میں علی الترتیب سبحان ربی العظیم اور سبحان ربی الاعلٰی پر اضافہ درست نہیں البتہ اس کو بار بار پڑھا جاسکتا ہے تین سے کم مناسب نہیں زیادہ کی کوئی پابندی نہیں جن روایات کو پیش نظر رکھا گیا ہے وہ یہ ہیں۔