hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1380

.

الطحاوي

1380
Al Tahawi
۱۳۸۰ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ، قَالَ : ثَنَا مُوْسَی بْنُ أَیُّوْبَ، عَنْ إِیَاسِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ، أَنَّہٗ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ مَا کَانَ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ، إِنَّمَا کَانَ قَبْلَ نُزُوْلِ الْآیَتَیْنِ اللَّتَیْنِ ذَکَرْنَا فِیْ حَدِیْثِ عُقْبَۃَ .فَلَمَّا نَزَلَتَا أَمَرَہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا أَمَرَہُمْ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ، فَکَانَ أَمْرُہُ نَاسِخًا لِمَا تَقَدَّمَ مِنْ فِعْلِہِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا أَنَّہٗ قَدْ کَانَ یَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہٖ وَسُجُوْدِہٖ مَا أَمَرَ بِہٖ فِیْ حَدِیْثِ عُقْبَۃَ .
١٣٨٠: عبدالرحمن بن زیاد نے یحییٰ بن ایوب اور انھوں نے موسیٰ بن ایوب انھوں نے ایاس بن عامر سے بواسطہ حضرت علی (رض) اسی طرح نقل کیا ہے۔ ان علماء کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جو کچھ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان روایات میں وارد ہوا جن کو فریق اوّل نے مستدل بنایا وہ ان دو آیتوں کے نزول سے پہلے کی بات ہے جن کا ہم نے حضرت عقبہ (رض) کی میں ذکر کیا ہے۔ جب یہ دونوں آیتیں نازل ہو چکیں تو آپ نے ان کو یہ حکم دیا جو فریق دوم کی روایات میں ہے تو آپ کا یہ ارشاد آپ کے پہلے فعل کو منسوخ کرنے والا ہے۔ اور جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی انہی تسبیحات کا رکوع اور سجود میں کہنا جن کا آپ نے حضرت عقبہ (رض) والی روایت میں حکم دیا ‘ منقول ہے۔
ایک دلیل اور جواب دلیل فریق اوّل :
گزشتہ آثار جو فریق اوّل نے پیش کئے ان میں جو بات مذکور ہے اس میں کلام نہیں مگر وہ ان آیات کے نزول سے پہلے کی بات ہے جب یہ آیات نازل ہو چکیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پڑھنے کا حکم فرمایا پہلے ذکر کردہ روایات میں فعل کا ذکر جس میں خصوصیت کا بھی احتمال ہے اس سے قطع نظر آپ کا حکم ماقبل کے لیے ناسخ ہے اور آپ کا عمل مبارک اس کی تائید کررہا ہے مندرجہ ذیل روایات شاہد ہیں۔