۱۳۹۷ : فَإِذَا یُوْنُسُ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، وَأَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَنَّہُمَا سَمِعَاہُ یَقُوْلُ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ یَفْرَغُ مِنْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ مِنَ الْقِرَائَ ۃِ وَیُکَبِّرُ، وَیَرْفَعُ رَأْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ یَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ، اللّٰہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیْدَ بْنَ الْوَلِیْدِ) ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیْثَ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ قَالَ ذٰلِکَ ؛ لِأَنَّہٗ مِنَ الْقُنُوْتِ ثُمَّ تَرَکَہُ بَعْدُ، لَمَّا تَرَکَ الْقُنُوْتَ، فَرَجَعْنَا إِلٰی غَیْرِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ ہَلْ فِیْہِ دَلَالَۃٌ عَلٰی شَیْئٍ مِمَّا ذَکَرْنَا۔
١٣٩٧: سعید بن المسیّب اور ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم دونوں نے ان کو کہتے سنا جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز فجر کی قراءت سے فارغ ہوتے اور تکبیر کہتے اور رکوع سے سر اٹھاتے اور کہتے سمع اللہ لمن حمدہ ‘ ربنا ولک الحمد ‘ اللہم انج الولید بن الولید پھر حدیث کو مکمل طور پر ذکر کیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے اس کو قنوت کے طور پر پڑھا ہو پھر جب قنوت کو ترک کیا تو اسے بھی ترک کردیا۔ ہم اس کے علاوہ روایات کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ آیا ان میں سے کسی چیز پر دلالت کرتی ہیں ‘ چنانچہ ملاحظہ ہو۔
تخریج : بخاری فی الاذان باب ١٢٨‘ وا الاستسقاء باب ٢‘ والجہاد باب ٩٨‘ احادیث الانبیاء باب ١٩‘ تفسیر سورة نمبر ٣‘ باب ٩‘ الادب باب ١١٠‘ والدعوات باب ٥٨‘ مسلم فی المساجد ٢٩٤؍٢٩٥‘ نسائی فی التطبیق باب ٢٧‘ ابن ماجہ فی الاقامۃ باب ١٤٥‘ دارمی فی الصلاۃ باب ٢١٦‘ مسند احمد ٢؍٢٣٩؍٢٥٥‘ ٢٧١؍٢٩٦۔
ضمنی اشکال اور اس کا حل :
ممکن ہے کہ یہ آپ نے قنوت کے موقع پر کہا پھر بعد میں قنوت کی طرح اسے بھی ترک کردیا اس کا جواب یہ ہے کہ دیگر روایات میں اس کا قنوت کے علاوہ پڑھنا موجود ہے جس کا ثبوت یہ روایات ہیں۔