۱۴۱۹ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ یُوْنُسَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ عَاصِمٍ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ الْقُنُوْتِ : قَبْلَ الرُّکُوْعِ أَوْ بَعْدَ الرُّکُوْعِ؟ فَقَالَ : لَا، بَلْ قَبْلَ الرُّکُوْعِ .قُلْتُ : إِنَّ نَاسًا یَزْعُمُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّکُوْعِ .قَالَ : إِنَّمَا قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَہْرًا، یَدْعُوْ عَلٰی نَاسٍ قَتَلُوْا نَاسًا مِنْ أَصْحَابِہٖ یُقَالُ لَہُمَ الْقُرَّائُ) .
١٤١٩: عاصم نے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے قنوت کے متعلق سوال کیا کہ آیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا بعد ؟ تو فرمایا وہ رکوع سے پہلے ہے بعد نہیں۔ میں نے کہا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی تو انھوں نے جواب دیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی اس میں قراء کو قتل کرنے والوں کے متعلق بددعا کرتے تھے۔
تخریج : بخاری فی الوتر باب ٧۔