hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1431

.

الطحاوي

1431
Al Tahawi
۱۴۳۱ : وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا الْمُقَدَّمِیُّ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مَعْشَرٍ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حَمْزَۃَ، عَنْ اِبْرَاہِیْمَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَہْرًا یَدْعُوْ عَلٰی عُصَیَّۃَ وَذَکْوَانَ .فَلَمَّا ظَہَرَ عَلَیْہِمْ تَرَکَ الْقُنُوْتَ وَکَانَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لَا یَقْنُتُ فِیْ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ فَھٰذَا ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُخْبِرُ أَنَّ قُنُوْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِیْ کَانَ إِنَّمَا کَانَ مِنْ أَجْلِ مَنْ کَانَ یَدْعُوْ عَلَیْہِ، وَإِنَّہٗ قَدْ کَانَ تَرَکَ ذٰلِکَ فَصَارَ الْقُنُوْتُ مَنْسُوْخًا فَلَمْ یَکُنْ ہُوَ مِنْ بَعْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْنُتُ .وَکَانَ أَحَدُ مَنْ رَوٰی ذٰلِکَ أَیْضًا، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .ثُمَّ قَدْ أَخْبَرَہُمْ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ - نَسَخَ ذٰلِکَ حِیْنَ أَنْزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُوْنَ .فَصَارَ ذٰلِکَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مَنْسُوْخًا أَیْضًا، فَلَمْ یَکُنْ ہُوَ یَقْنُتُ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَکَانَ یُنْکِرُ عَلٰی مَنْ کَانَ یَقْنُتُ۔
١٤٣١: علقمہ نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ماہ تک عصیہ و ذکوان کے متعلق بددعا کے لیے قنوت پڑھی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حضرت ابن مسعود (رض) ہیں جو یہ بتلا رہے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قنوت تو کفار کے خلاف بد دعا کے لیے تھا اور آپ نے اس کو چھوڑ دیا تو قنوت منسوخ ہوگئی۔ چنانچہ آپ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قنوت کے روات میں حضرت ابن عمر (رض) بھی ہیں۔ وہ بتلا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے { لیس لک من الامر شیٔ} کو اتار کر قنوت کو منسوخ کردیا۔ پس حضرت ابن عمر (رض) کے ہاں بھی منسوخ ہوچکی۔ پس اسی بناء پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد قنوت نہ پڑھتے تھے۔ بلکہ پڑھنے والوں پر اعتراض کرتے تھے۔
تخریج : طبرانی فی المعجم الکبیر ١٠؍٨٤۔
قنوت بلاشبہ پڑھی گئی مگر جب ان کو غالب معلوم ہوگیا یہ کہ حکم منسوخ ہوگیا تو انھوں نے قنوت ترک کردی چنانچہ ابن مسعود (رض) فجر کی نماز میں قنوت نہ پڑھتے تھے۔
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں ابن مسعود (رض) بتلا رہے ہیں کہ آپ کا قنوت پڑھنا ایک حادثاتی معاملے کی وجہ سے ہوا پھر آپ نے چھوڑ دیا تو قنوت کا پڑھنا منسوخ ہوگیا اس کے بعد جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قنوت نہ پڑھتے تھے۔
جواب روایت ابن عمر (رض) :
حضرت ابن عمر (رض) نے ذکر کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم منسوخ کردیا جبکہ اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت اتاری ” لیس لک من الامر شئی او یتوب علیہم او یعذبھم فانہم ظالمون “ (آل عمران) گویا نماز فجر میں رکوع کے بعد جو قنوت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خصوصی حوادث کی وجہ سے پڑھتے تھے وہ بھی اس آیت سے منسوخ ہوگئی یہی وجہ ہے کہ ابن عمر (رض) فجر میں قنوت پڑھنے والوں پر نکیر فرماتے کہ خلفاء راشدین اور اجلّہ صحابہ کرام نے تو یہ قنوت نہیں پڑھی جیسا کہ ان روایات و آثار سے معلوم ہوتا ہے۔