۱۴۴۶ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ : أَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ذُکِرَلَہٗ قَوْلَ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی الْقُنُوتِ فَقَالَ : أَمَا إِنَّہٗ قَدْ قَنَتَ مَعَ أَبِیہِ ، وَلٰـکِنَّہٗ نَسِیَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ: فَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مَا ذَکَرْنَا ، وَرُوِیَ عَنْہُ خِلَافُ ذَلِکَ .
١٤٤٦: محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ سعید بن المسیب کے سامنے ابن عمر (رض) کا قول قنوت کے سلسلہ میں ذکر کیا گیا تو کہنے لگے اچھی طرح سنو ! انھوں نے اپنے والد کے ساتھ قنوت پڑھی ہے مگر وہ بھول گئے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) سے یہ مذکورہ روایت بھی آئی ہے مگر اس کے خلاف روایت بھی مروی ہے۔
خلاصہ اقوال :
ان سابقہ تمام آثار سے حضرت عمر (رض) کا فجر میں قنوت پڑھنا ثابت ہو رہا ہے اور وہ قنوت اللہم انا نستعینک۔۔۔ ہے۔
عمل عمر (رض) کا دوسرا انداز :
اس طرح مروی ہے۔