۱۴۵۸ : وَحَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ حُسَیْنٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَعْقِلٍ یَقُوْلُ : صَلَّیْتُ خَلْفَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ الصُّبْحَ فَقَنَتَ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَ یَرَی الْقُنُوْتَ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ فِیْ سَائِرِ الدَّہْرِ، وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ فَعَلَ ذٰلِکَ فِیْ وَقْتٍ خَاصٍّ لِلْمَعْنَی الَّذِیْ کَانَ فَعَلَہٗ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ أَجْلِہٖ۔ فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ۔
١٤٥٨: عبید بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے ابن معقل کو کہتے سنا کہ میں نے علی (رض) کے پیچھے صبح کی نماز ادا کی پس انھوں نے اس میں قنوت پڑھتی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ علی (رض) آیا ہمیشہ نماز فجر میں قنوت پڑھتے یا حضرت عمر (رض) کی طرح دشمن سے مقابلہ کے وقت پڑھا کرتے تھے چنانچہ مندرجہ ذیل آثار سے اس کی نشاندہی ہوتی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں ممکن ہے کہ حضرت علی (رض) ہمیشہ نماز فجر میں قنوت کو جائز قرار دیتے ہوں ‘ اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ یہ آپ نے ایک خاص وقت میں کیا اور اس کی وجہ وہی ہو جس کی بناء پر حضرت عمر (رض) پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ اس سلسلے میں غور کرنے پر یہ روایات سامنے آئیں۔