۱۴۷۶ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الْکُوْفِیُّ قَالَ : ثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ کَانَ اِذَا سَجَدَ بَدَأَ بِوَضْعِ یَدَیْہِ قَبْلَ رُکْبَتَیْہِ، وَکَانَ یَقُوْلُ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ ذٰلِکَ .
١٤٧٦: نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ جب وہ سجدہ کرتے پہلے اپنے دو ہاتھ رکھتے پھر گھٹنے اور کہا کرتے تھے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح کیا کرتے تھے۔
تخریج : دارقطنی فی السنن ١؍٣٤٤۔
سجدہ اعضاء سبعہ پر ہوگا مگر ان میں کس کو پہلے اور کسے بعد میں رکھا جائے اس میں اختلاف ہے۔
فریق اوّل :
جس میں امام مالک و اوزاعی و حسن بصری (رح) ہیں گھٹنوں سے ہاتھوں کو مقدم کرنے کو افضل قرار دیتے ہیں اور فریق دوم جس میں احناف و شوافع و حنابلہ اور جمہور فقہاء شامل ہیں وہ رکبتین کو مقدم کرنا افضل قرار دیتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور ان کے دلائل :
ہاتھوں کو زمین پر سجدہ کی حالت میں پہلے رکھنا افضل ہے جیسا یہ روایات اس کو ظاہر کرتی ہیں۔