hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1478

.

الطحاوي

1478
Al Tahawi
۱۴۷۸ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (اِذَا سَجَدَ أَحَدُکُمْ فَلَا یَبْرُکْ کَمَا یَبْرُکُ الْبَعِیْرُ وَلٰـکِنْ یَضَعُ یَدَیْہِ ثُمَّ رُکْبَتَیْہِ) .فَقَالَ قَوْمٌ ھٰذَا الْکَلَامُ مُحَالٌ ؛ لِأَنَّہٗ قَالَ : (لَا یَبْرُکْ کَمَا یَبْرُکُ الْبَعِیْرُ) ، وَالْبَعِیْرُ إِنَّمَا یَبْرُکُ عَلٰی یَدَیْہِ، ثُمَّ قَالَ : وَلٰـکِنْ یَضَعُ یَدَیْہِ قَبْلَ رُکْبَتَیْہِ فَأَمَرَہٗ ہَاہُنَا أَنْ یَصْنَعَ مَا یَصْنَعُ الْبَعِیْرُ، وَنَہَاہُ فِیْ أَوَّلِ الْکَلَامِ أَنْ یَفْعَلَ مَا یَفْعَلُ الْبَعِیْرُ .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ فِیْ ذٰلِکَ فِیْ تَثْبِیْتِ ھٰذَا الْکَلَامِ وَتَصْحِیْحِہِ وَنَفْیِ الْاِحَالَۃِ مِنْہُ أَنَّ الْبَعِیْرَ رُکْبَتَاہُ فِیْ یَدَیْہِ وَکَذٰلِکَ فِیْ سَائِرِ الْبَہَائِمِ، وَبَنُو آدَمَ لَیْسُوْا کَذٰلِکَ، فَقَالَ : لَا یَبْرُکْ عَلَی رُکْبَتَیْہِ اللَّتَیْنِ فِیْ رِجْلَیْہِ، کَمَا یَبْرُکُ الْبَعِیْرُ عَلَی رُکْبَتَیْہِ اللَّتَیْنِ فِیْ یَدَیْہِ، وَلٰـکِنْ یَبْدَأُ فَیَضَعُ أَوَّلًا یَدَیْہِ اللَّتَیْنِ لَیْسَ فِیْہِمَا رُکْبَتَانِ ثُمَّ یَضَعُ رُکْبَتَیْہِ، فَیَکُوْنُ مَا یَفْعَلُ فِیْ ذٰلِکَ بِخِلَافِ مَا یَفْعَلُ الْبَعِیْرُ .فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْیَدَیْنِ یُبْدَأُ بِوَضْعِہِمَا فِی السُّجُوْدِ قَبْلَ الرُّکْبَتَیْنِ. وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ، فَقَالُوْا : بَلْ یَبْدَأُ بِوَضْعِ الرُّکْبَتَیْنِ قَبْلَ الْیَدَیْنِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
١٤٧٨: اعرج نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم سجدہ کرو تو اونٹ کی طرح مت بیٹھو بلکہ پہلے پہلے اپنے دو ہاتھ رکھو پھر دونوں گھٹنے رکھو۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ بات ناممکن ہے کیونکہ آپ نے اونٹ کی طرح بیٹھنے کی ممانعت فرمائی۔ وہ تو اگلی ٹانگوں پر بیٹھتا ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے رکھے۔ پس اس کو یہاں حکم دیا کہ وہ اس طرح کرے جیسے اونٹ کرتا ہے۔ اور پہلی کلام میں اونٹ جیسے عمل سے منع فرمایا۔ اس کلام کی تصحیح اور ثابت رکھنے اور ناممکن کو ممکن بنانے کی صورت یہ ہوگی کہ اونٹ کے گھٹنے اس کی اگلی ٹانگوں میں ہوتے ہیں اور تمام بہاتم اسی طرح ہیں۔ جبکہ انسان کی حالت اس سے مختلف ہے۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے ان دو گھٹنوں کے بل نہ بیٹھے جو اس کی ٹانگوں میں ہیں۔ جیسا کہ اونٹ اپنے ان دو گھٹنوں پر بیٹھتا ہے جو اس کی اگلی ٹانگوں میں ہیں۔ بلکہ پہلے ہاتھ رکھے جن میں گھٹنے نہیں پھر گھٹنے رکھے۔ پس اس کا یہ فعل اونٹ کے فعل کے مخالف ہوگا۔ دوسری جماعت کا خیال ہے کہ سجدے میں ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھے جائیں ‘ انھوں نے اس سلسلے میں مندرجہ بالا روایات کو اپنا مستدل قرار دیا۔ مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا بلکہ اس طرح کرے کہ گھٹنے ہاتھوں سے پہلے رکھے اور ان کی دلیل مندرجہ روایات سے استدلال کیا۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١٣٧‘ نمبر ٨٤٠‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ٨٥‘ نمبر ٢٦٩‘ نسائی فی التطبیق باب ١٢٨‘ دارقطنی فی السنن ١؍٣٤٤‘ بیہقی فی السنن ٢؍٩٩‘ مسند احمد ٢؍٣٨١۔
ایک اشکال :
بعض لوگوں نے روایت کے الفاظ لا یبرک کما یبرک البیعیر لکن یضع یدیہ قبل رکبتیہ ان دونوں جملوں کو باہم متضاد قرار دیا کیونکہ اونٹ بیٹھتے وقت اپنے اگلے گھٹنوں کو مقدم کرتا ہے۔
مگر اس کا جواب یہ ہے انسانی اور حیوانی اعضاء کے نام کا اور کام کا فرق ہے اونٹ کے گھٹنے اس کے ہاتھ ہیں گویا ارشاد میں ہاتھ کو مقدم کرنے کی ممانعت ہے ہذا ھوالمقصود۔ بیٹھنے کی کیفیت کو اونٹ کے بیٹھنے سے تشبیہہ دی گئی ہے۔
حاصل روایات : ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھوں کو سجدہ میں گھٹنوں سے پہلے رکھا جائے گا۔
فریق ثانی کا مؤقف :
گھٹنوں کو ہاتھوں سے پہلے رکھا جائے گا جیسا کہ مندرجہ ذیل روایات سے ثبوت ملتا ہے۔