hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1493

.

الطحاوي

1493
Al Tahawi
۱۴۹۳ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ قَالَ : ثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَہْلٍ قَالَ : اجْتَمَعَ أَبُوْ حُمَیْدٍ، وَأَبُوْ أُسَیْدٍ، وَسَہْلُ بْنُ سَعْدٍ، فَذَکَرُوْا صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُوْ حُمَیْدٍ : أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا سَجَدَ أَمْکَنَ أَنْفَہُ وَجَبْہَتَہُ وَنَحَّی یَدَیْہِ عَنْ جَنْبَیْہِ وَوَضَعَ کَفَّیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا فَقَالُوْا: الَّذِیْ یَنْبَغِیْ لِلْمُصَلِّیْ أَنْ یَجْعَلَ یَدَیْہِ فِیْ سُجُوْدِہِ حِذَائَ مَنْکِبَیْہِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلْ یَجْعَلُ یَدَیْہِ فِیْ سُجُوْدِہٖ حِذَائَ أُذُنَیْہِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
١٤٩٣: عباس بن سہل روایت کرتے ہیں کہ ابو حمید اور ابو اسید اور سہل بن سعد جمع ہوئے اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابو حمید کہنے لگے میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ کرتے اپنی ناک اور پیشانی کو زمین پر جماتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھتے اور اپنی دو ہتھیلیوں کو اپنے کندھوں کے برابر رکھتے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ نمازی کو چاہیے کہ وہ سجدے میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر رکھے۔ مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا سجدے میں اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برابر رکھے۔ اور ان کی دلیل یہ روایات ہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ١١٦‘ نمبر ٧٣٠‘ باب ١٧٧‘ نمبر ٩٦٣‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ١١٠‘ نمبر ٣٠٤‘ نسائی فی السھو باب ٢٩‘ بیہقی فی السنن الکبرٰی ٢‘ ٢٦؍٧٣‘ ١١٦‘ مصنف ابن ابی شیبہ ١؍٢٣٥۔
خلاصہ الزام : سجدہ میں ہاتھ تو زمین پر رکھے جاتے ہیں اس سے پہلے باب میں ان کا گھٹنوں سے مؤخر کرنا ثابت کیا اب یہاں سجدہ میں رکھنے کی جگہ بتلانا چاہتے ہیں۔
نمبر !: امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) کے ہاں کندھوں کے برابر رکھے جائیں گے۔
نمبر ": اور احناف و سفیان ثوری (رح) کے ہاں کانوں کے برابر رکھے جائیں گے۔
مؤقف اوّل اور اس کے دلائل :
ہاتھوں کو سجدہ میں کندھوں کے برابر رکھا جائے گا جیسا کہ ابو حمید ساعدی (رض) کی روایت میں وارد ہے۔
حاصل روایات : سجدہ میں اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر رکھا جائے گا۔
مؤقف ثانی :
ہاتھوں کو کانوں کے برابر رکھا جائے گا جیسا کہ مندرجہ ذیل روایات سے ظاہر ہوتا ہے۔