۱۵۲۷ : وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسٰی قَالَ : أَنَا إِسْرَائِیْلُ کِلَاہُمَا عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : کُنَّا لَا نَدْرِیْ مَا نَقُوْلُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ غَیْرَ أَنْ نُسَبِّحَ وَنُکَبِّرَ وَنَحْمَدَ رَبَّنَا - عَزَّ وَجَلَّ - وَإِنَّ مُحَمَّدًا عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْکَلِمِ وَخَوَاتِمَہٗ أَوْ قَالَ وَجَوَامِعَہُ فَقَالَ : اِذَا قَعَدَ أَحَدُکُمْ فِی الرَّکْعَتَیْنِ فَلْیَقُلْ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ .
١٥٢٧: ابو اسحاق نے ابوالاحوص سے انھوں نے حضرت عبداللہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم نہ جانتے تھے کہ دو رکعتوں کے درمیان کیا کہا کریں بس ہم سبحان اللہ ‘ اللہ اکبر ‘ الحمدللہ کہتے اور کہتے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کلمات کی ابتداء اور انتہاء والے کلمات سکھائے گئے ہیں یا خواتم کی بجائے جوامع کے لفظ فرمائے پھر فرمایا جب تم قعدہ اولیٰ میں بیٹھا کرو تو اس طرح کہو پھر التحیات کے آخر تک اسی طرح کلمات ذکر کئے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ ١٧٨‘ نمبر ٩٦٩‘ ترمذی فی النکاح باب ١٧‘ نمبر ١١٠٥‘ والصلاۃ باب ٩٩‘ نمبر ٢٨٩۔