۱۵۳۰ : وَحَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : أَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ، قَالَ : أَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ : سُئِلَ عَطَائٌ ، وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ التَّشَہُّدِ فَقَالَ : التَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ، الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلّٰہِ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُوْلُہُنَّ عَلَی الْمِنْبَرِ، یُعَلِّمُہُنَّ النَّاسَ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَقُوْلُ مِثْلَ مَا سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ یَقُوْلُ .قُلْتُ فَلَمْ یَخْتَلِفْ ابْنُ الزُّبَیْرِ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ فَقَالَ : لَا .وَخَالَفَہٗ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .
١٥٣٠: ابن جریج کہتے ہیں کہ عطائ (رح) سے کسی نے پوچھا جبکہ میں یہ گفتگو سن رہا تھا کہ تشہد کون سا پڑھا جائے تو فرمایا : التَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ ، الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلّٰہِ ، آخر تک جو گزشتہ روایت میں گزرا ہے۔ اسی طرح نقل کیا پھر ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن زبیر (رض) کو منبر پر لوگوں کو اسے سکھاتے سنا اور میں نے خود حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے بھی اسی طرح سنا جیسا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر (رض) سے سنا تھا میں نے عطاء سے کہا کیا ان دونوں کے تشہد کے کلمات مختلف ہیں تو انھوں نے کہا نہیں۔ اور اس سلسلے میں عبداللہ ابن عمر (رض) نے بھی ان کی مخالفت کی۔
حاصل روایات : کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے بھی یہ تشہد جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سیکھا ہے اور اسی کو حضرت عبداللہ بن زبیر نے برسر منبر صحابہ اور تابعین کے مجمع میں سنایا اور سکھایا جس سے اس کا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہونا اور پختہ ہوگیا اس سے ثابت ہوا کہ اگر تشہد عمری لازم ہوتا تو دونوں حضرات اور تشہد نقل نہ کرتے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی طرف سے تشہد کی روایت منقول ہے جس کے الفاظ تشہد عمر (رض) سے مختلف ہیں روایت ملاحظہ ہو۔