۱۵۳۵ : وَحَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ زَیْدِ ڑالْعَمِّیِّ، عَنْ أَبِی الصِّدِّیْقِ النَّاجِیْ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ أَبُوْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ عَلَی الْمِنْبَرِ، کَمَا تُعَلِّمُوْنَ الصِّبْیَانَ فِی الْکِتَابَ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ تَشَہُّدِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سَوَائً .فَھٰذَا الَّذِیْ رَوَیْنَاہُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یُخَالِفُ مَا رَوَاہُ سَالِمٌ وَنَافِعٌ عَنْہُ، وَھٰذَا أَوْلَی ؛ لِأَنَّہٗ حَکَاہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَنْ أَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَعَلَّمَہٗ مُجَاہِدًا، فَمُحَالٌ أَنْ یَکُوْنَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَدَعُ مَا أَخَذَہٗ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی مَا أَخَذَہُ عَنْ غَیْرِہٖ .وَخَالَفَہٗ فِیْ ذٰلِکَ أَبُوْ سَعِیْدِ ڑالْخُدْرِیُّ، فَرُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ۔
١٥٣٥: ابوالصدیق الناجی نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ ابوبکر (رض) ہمیں منبر پر اس طرح تشہد سکھاتے جیسا تم بچوں کو قرآن مجید سکھاتے ہو پھر حضرت ابن مسعود (رض) کے تشہد کی طرح تشہد ذکر کیا۔ یہ جس کو ہم نے ابن عمر (رض) سے روایت کیا یہ سالم اور نافع کی روایت کے خلاف ہے ‘ لیکن ان سے یہ اولیٰ ہے کیونکہ انھوں نے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) سے نقل کیا اور مجاہد کو سکھلایا ‘ اس لیے ناممکن ہے کہ وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سکھلائی ہوئی بات کو چھوڑ کر دوسرے کی سکھلائی ہوئی بات کی طرف جائیں۔ اسی طرح ابوسعید خدری (رض) نے بھی اس سلسلے میں ان کی مخالفت کی اور حضرت ابو سعید خدری (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ تشہد روایت کیا ہے۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ فی الصلاۃ ١؍٢٩٢۔
حاصل روایات : یہ روایت جو ہم نے ابن عمر (رض) سے نقل کی اور مجاہد نے اس کو سیکھ کر ان سے نقل کیا یہ اس روایت سے اولیٰ ہے جس کو ان سے سالم و نافع نے نقل کیا ہے کیونکہ یہ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر صدیق (رض) سے نقل کی ہے پس یہ ناممکن ہے کہ ابن عمر (رض) اس کو ترک کردیں جس کو انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لیا ہو اور اس کو اختیار کریں جس کو غیر سے لیا ہو پس فصل اوّل کی روایت موقوف ہونے کی وجہ سے اس مرفوع روایت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
نوٹ : حاصل یہ ہے کہ ابن عمر (رض) نے ابن مسعود (رض) جیسا التحیات نقل کیا اور حضرت عمر (رض) والا نقل نہیں کیا اگر وہ لازم ہوتا تو اسی کو نقل کرتے اور دوسرے کو اختیار نہ کرتے۔
حضرت ابو سعید الخدری (رض) :
ان کے نقل کردہ تشہد کے الفاظ بھی تشہد ابن مسعود سے سوائے چند الفاظ کے ملتے جلتے ہیں تشہد عمری ضروری ہوتا تو وہ اسی کو اختیار کرتے روایات ابو سعد (رض) ملاحظہ ہو۔