hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 154

.

الطحاوي

154
Al Tahawi
۱۵۴ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ أَبِی الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیْمٍ ، عَنْ عَمِّہٖ (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی الْقَدَمَیْنِ ) ، وَأَنَّ عُرْوَۃَ کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ .فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا وَقَالُوْا: ھٰکَذَا حُکْمُ الرِّجْلَیْنِ یُمْسَحَانِ ، کَمَا یُمْسَحُ الرَّأْسُ. وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : بَلْ یُغْسَلَانِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ مِنَ الْآثَارِ بِمَا۔
١٥٤ : عباد بن تمیم اپنے چچا (عبداللہ بن زید انصاری (رض)) سے روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور دونوں پاؤں پر مسح کیا ابوالاسود کہتے ہیں کہ عروہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ علماء کی ایک جماعت یہی کہتی ہے کہ پاؤں کا حکم مسح کرنا ہے جیسا کہ سر پر مسح کیا جاتا ہے۔ علماء کی دوسری جماعت کا کہنا یہ ہے کہ پاؤں کو دھوئیں گے ان کی دلیل یہ مرویات ہیں۔
تخریج : ابن خزیمہ ١؍١٠١
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پاؤں پر بھی اسی طرح مسح کیا جائے گا جیسا سر پر کیا جاتا ہے یہ ان علماء کی روایات ہیں جو پاؤں کے لیے مسح کو اصل قرار دیتے ہیں امامیہ کے لیے استدلال کی کوئی راہ نہیں کیونکہ ان کے ہاں تو ترتیب الٹ ہے۔
قول ثانی :
جو پاؤں میں دھونے کو اصل مانتے ہیں ان کی مستدل روایات مذکور ہوں گی پھر جوابات دیئے جائیں گے۔