۱۵۴۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ وَإِبْرَاہِیْمُ بْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَا : ثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَھٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ مَعَ حِفْظِہِ وَإِتْقَانِہٖ قَدْ رَوَاہُ عَنْ مُصْعَبٍ عَلٰی خِلَافِ مَا رَوَاہُ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْہُ .وَوَافَقَہٗ عَلٰی ذٰلِکَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، مَعَ تَقَدُّمِہِ وَجَلَالَتِہٖ .ثُمَّ قَدْ رُوِیَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ عَنْ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ غَیْرِ مُصْعَبٍ، کَمَا رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَابْنُ الْمُبَارَکِ لَا کَمَا رَوَاہُ الدَّرَاوَرْدِیُّ.
١٥٤٧: محمد بن عمرو نے مصعب بن ثابت سے انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ یہ حضرت عبداللہ بن مبارک (رح) جنہوں نے اپنے حافظہ و اتقان کے ساتھ مصعب سے دراوردی کے خلاف روایت نقل کی ہے اور محمد بن عمرو نے جو ان مقدم اور جلیل ہیں ان کی توثیق کی ہے۔ پھر اس روایت کو ان دونوں کی طرح اسماعیل بن محمد (رح) نے بھی نقل کی ہے اور دراوردی کے خلاف روایت کی اور مصعب کے علاوہ سے روایت بھی۔
حاصل روایات : یہ ابن مبارک اور محمد بن عمرو دونوں کی روایت جلالت شان کے ساتھ ساتھ دراوردی کی روایت سے مختلف ہیں اور دو سلاموں کو ثابت کر رہی ہیں پس دراوردی ی روایت معتبر نہ ہوگی۔
وجہ دوم : اس روایت کو مصعب کے علاوہ اسماعیل بن محمد سے بھی اسی طرح روایت کیا گیا جس طرح ابن مبارک اور ابن عمرو کی روایات میں ہے۔ روایت ملاحظہ ہو۔