hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1565

.

الطحاوي

1565
Al Tahawi
۱۵۶۵ : وَحَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ، قَالَ : ثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ قَالَ : ثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ الْقِبْطِیَّۃِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ : کُنَّا اِذَا صَلَّیْنَا خَلْفَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَلَّمْنَا بِأَیْدِیْنَا، قُلْنَا : السَّلَامُ عَلَیْکُمْ السَّلَامُ عَلَیْکُمْ، فَقَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ یُسَلِّمُوْنَ بِأَیْدِیْہِمْ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ خَیْلٍ شَمْسٍ أَمَا یَکْفِیْ أَحَدَکُمْ اِذَا جَلَسَ فِی الصَّلَاۃِ أَنْ یَضَعَ یَدَہٗ عَلٰی فَخِذِہٖ وَیُشِیْرَ بِأُصْبُعِہِ، وَیَقُوْلَ : (السَّلَامُ عَلَیْکُمْ، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ ).
١٥٦٥: عبیداللہ بن قبطیہ نے حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے نقل کیا ہے جب ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھوں سے سلام کرتے اور زبان سے السلام علیکم کہتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح سلام لیتے ہیں جیسے ترش رو گھوڑوں کی دمیں ہوں کیا تمہارے لیے اتنا کافی نہیں کہ جب وہ نماز میں بیٹھے تو اپنا دایاں بایاں ہاتھ ران پر رکھے اور انگلی سے اشارہ کرے اور السلام علیکم کہے۔ (یعنی یہ کافی ہے)
تخریج : مسلم ١؍١٨١۔