۱۵۸۶ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ : ثَنَا جَرِیْرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَالِکِ ابْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ أَمِیْرًا صَلّٰی بِمَکَّۃَ فَسَلَّمَ تَسْلِیْمَتَیْنِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَتُرَی مِنْ أَیْنَ عَلِقَہَا؟ فَسَمِعْتُ ابْنَ أَبِیْ دَاوٗدَ یَقُوْلُ : قَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ : ھٰذَا مِنْ أَصَحِّ مَا رُوِیَ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ .
١٥٨٦: عبدالرحمن بن یزید نے عبداللہ (رض) سے نقل کیا کہ ایک امیر نے مکہ میں نماز پڑھائی تو اس نے دو سلام کئے اس پر ابن مسعود (رض) نے کہا تیرا کیا خیال ہے اس نے کہاں سے اس کو حاصل کیا ہے۔ میں نے ابن ابی داؤد کو فرماتے سنا ہے کہ یحییٰ بن معین (رح) نے کہا کہ یہ روایت اس باب کی صحیح ترین روایات سے ہے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍٢٦٦۔
ابن ابی داؤد (رح) کا قول :
کہ یحییٰ بن معین کہا کرتے تھے کہ یہ اس سلسلہ کی اصح ترین روایات ہیں۔
حاصل روایات : ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجلہ حضرات صحابہ کرام (رض) نماز میں دونوں طرف السلام علیکم و رحمۃ اللہ سے سلام پھیرتے تھے اس لیے مقتدی امام ہر دو کو ہر دو طرف اسی طریق سے سلام لازم ہے۔