hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1592

.

الطحاوي

1592
Al Tahawi
۱۵۹۲ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ، عَنْ سَعِیْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ، مِثْلَہٗ .قِیْلَ لَہٗ صَدَقْتَ، قَدْ رُوِیَ ھٰذَا عَنْ ہٰؤُلَائِ وَقَدْ رُوِیَ عَمَّنْ قَبْلَہُمْ مِمَّنْ ذَکَرْنَا مَا یُخَالِفُ ذٰلِکَ، مَعَ مَا قَدْ تَوَاتَرَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، مِمَّا قَدَّمْتُ ذِکْرَہُ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، وَابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی، وَہُمَا مِنَ التَّابِعِیْنَ أَکْبَرُ مِنْ أُوْلَئِکَ خِلَافُ مَا رُوِیَ عَنْہُمْ .
١٥٩٢: سعید نے عمر بن عبدالعزیز (رح) کے متعلق نقل کیا کہ وہ ایک طرف سلام پھیرتے تھے۔ ابن مرزوق نے عمر بن عبدالعزیز سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ جواب میں کہا جائے گا کہ ایسی روایات بلاشبہ ان سے مروی ہیں مگر ان کے بالمقابل صحابہ کرام کی کثیر روایات جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تواتر کے ساتھ مروی ہیں وہ ان کے خلاف موجود ہیں۔ جن کا تذکرہ ہم اس باب میں کر آئے ہیں۔ (دوسرا جواب یہ ہے) کہ حضرت سعید بن المسیب اور ابن ابی لیلیٰ (رح) جو کہ اکابر تابعین سے ہیں ان کی روایات ان کے خلاف ہیں (پس ان کی روایات سے استدلال کا کوئی جواز نہیں ہے) ۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍٢٦٧۔
الجواب بالصواب نمبر !: یہ تو اکابر تابعین کا عمل ہے ہم تو گزشتہ روایات میں اکابر صحابہ (رض) اور تابعین (رح) کا عمل پیش کر آئے بلکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل مبارک متواتر اسناد سے پیش کردیا اس لیے اس کے ہوتے ہوئے ان روایات کی چنداں حیثیت نہ ہوگی۔
نمبر ": ان سے جلیل القدر تابعین جنہوں نے ان سے زیادہ صحابہ کرام کی صحبت اٹھائی ان کا عمل پیش کیا جاتا ہے جو دو سلام ہی ہے پس ان کا عمل ان کے مقابلہ میں مرجوح ہوگا روایات ملاحظہ ہوں۔