۱۵۹۴ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنِ الْحَکَمِ، قَالَ : کُنْتُ أُصَلِّیْ مَعَ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی، فَیُسَلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہٖ وَعَنْ شِمَالِہٖ : (السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ) .فَھٰذَانِ تَابِعِیَّانِ مَعَہُمَا مِنَ الْقِدَمِ وَمِنَ الصُّحْبَۃِ بِجَمَاعَۃٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا لَیْسَ لِلَّذِیْ یُخَالِفُہُمَا مِمَّنْ ذَکَرْنَا فِیْ ھٰذَا الْبَابِ .فَاَلَّذِیْ رَوَیْنَا عَنْہُمَا مِنْ ذٰلِکَ أَوْلَی، لِاقْتِدَائِہِمَا بِمَنْ قَبْلَہُمَا، وَلِمُوَافَقَتِہِمْ ا لِمَا قَدْ ثَبَتَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ .وَھٰذَا أَیْضًا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدٍ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
١٥٩٤: حکم کہتے ہیں کہ میں ابن ابی لیلیٰ کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا پس وہ اپنے دائیں بائیں جانب السلام علیکم و رحمۃ اللہ سے سلام پھیرتے۔ ابن مرزوق نے حکم سے نقل کیا کہ میں ابن ابی لیلی (رح) کے ساتھ نماز پڑھتا تھا وہ اپنے دائیں اور بائیں سلام ” السلام علیکم و رحمۃ اللہ “ کے ساتھ پھیرتے تھے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ١؍٢٦٧۔
حاصل یہ ہے کہ یہ دونوں قدیم صحبت پانے والے تابعی ہیں جو کہ ان مذکورہ حضرات کو اس قدر میسر نہیں ہے پس ان کا قول ان سے بڑھ کر وزن رکھتا ہے نیز صحابہ کرام (رض) کے قول کے مطابق اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل سے موافقت رکھتا ہے۔
اور یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
حاصل روایات : اس باب میں اگرچہ نظری دلیل ذکر نہیں ہے مگر آثار سے اس قدر دلائل پیش کئے ہیں کہ ایک سلام والی روایات سند اور کثیر عمل کے اعتبار سے ان کے سامنے کبھی ترجیح نہیں پا سکتیں وہ اکابر صحابہ (رض) اور اکابر تابعین (رح) اور جمہور امت کا اجتماعی عمل ہے یعنی دو سلام سے نماز سے فراغت پانا۔