۱۶۰۴ : مَا حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ وَکِیْعٍ، عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : التَّشَہُّدُ انْقِضَائُ الصَّلَاۃِ، وَالتَّسْلِیْمُ اِذْنٌ بِانْقِضَائِہَا ثُمَّ قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ تَرْکَ السَّلَامِ غَیْرُ مُفْسِدٍ لِلصَّلَاۃِ، وَہُوَ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّہْرَ خَمْسًا، فَلَمْ یُسَلِّمْ، فَلَمَّا أُخْبِرَ بِصَنِیْعِہِ فَثَنَی رِجْلَہُ فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ) .
١٦٠٤: ابو اسحاق نے ابوالاحوص سے انھوں نے عبداللہ سے نقل کیا کہ انھوں نے فرمایا تشہد نماز کا اگر اختتام ہے تو تسلیم اختتام کا اعلان ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں اس روایت کا معنی پہلی روایت سے مختلف ہے اور اس روایت کو دیگر الفاظ سے بھی روایت کیا گیا ہے۔ پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی روایات وارد ہوتی ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ سلام کا چھوڑ دینا نماز کو نہیں توڑتا اور وہ اس طرح کہ آپ نے نماز ظہر پانچ رکعت پڑھائی اور سلام نہ پھیرا جب آپ کے عمل کی آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پاؤں کو موڑا اور دو سجدے ادا فرمائے۔
تخریج : بیہقی ٢؍٢٤٨ موقوفاً ۔
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی مروی ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ترک سلام نماز کے لیے مفسد نہیں ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پانچ رکعت ادا کی اور سلام نہ پھیرا جب آپ کو اس بات کی اطلاع دی گئی تو آپ نے اپنے پاؤں کو موڑا پھر دو سجدے کئے۔ روایت یہ ہے۔