۱۶۰۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ سَابِقِ ڑالرَّشِیْدِیُّ، قَالَ : ثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ : کَانَ عَطَائٌ یَقُوْلُ : اِذَا قَضَی الرَّجُلُ التَّشَہُّدَ الْأَخِیْرَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عَبَّادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ فَأَحْدَثَ .وَإِنْ لَمْ یَکُنْ سَلَّمَ عَنْ یَمِیْنِہٖ وَعَنْ یَسَارِہٖ فَذَکَرَ کَلَامًا مَعْنَاہُ : فَقَدْ مَضَتْ صَلَاتُہٗ، أَوْ قَالَ : فَلاَ یَعُوْدُ إِلَیْہَا .
١٦٠٧: ابن جریج سے روایت ہے کہ عطاء کہا کرتے تھے جب آدمی نے تشہد اخیر پورا کرلیا اور السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحینکہہ چکا پھر اس کا وضو ٹوٹ گیا اگرچہ اس نے دائیں بائیں سلام نہ پھیرا یا اس کے مشابہہ بات کہی تو اس کی نماز مکمل ہوگئی یا اس طرح فرمایا وہ نماز کا اعادہ نہ کرے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ نمبر ٨٤٧٦۔
حاصل اقوالإ
قعدہ اخیرہ بمقدار تشہد فرض ہے اور سلام لازم نہیں بلکہ مسنون ہے یہی ہمارے ائمہ ثلاثہ (رح) کا قول ہے۔
حاصل روایات : اس باب میں نظر کو پہلے سے نہایت مختلف انداز سے پیش کیا فریق اوّل کی طرف سے نظر پھر اس کا فریق ثانی کی طرف سے نظر میں جواب پھر فریق اوّل جن کا مسلک ان کے ہاں راجح تھا ان کی طرف سے اس نظر کا جواب الجواب دیا پھر ائمہ احناف کا راجح قول اور تابعین کے اقوال سے اس کی تائید ذکر کی۔