۱۶۲۴ : وَقَدْ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ بْنِ مُوْسٰی، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ بَحْرِ ڑالْقَطَّانُ، قَالَ : ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْوَضِیْنِ بْنِ عَطَائٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِی (سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہٗ کَانَ یَفْصِلُ بَیْنَ شَفْعِہِ وَوِتْرِہِ بِتَسْلِیْمَۃٍ، وَأَخْبَرَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ) .فَقَدْ أَخْبَرَ أَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّی شَفْعًا وَوِتْرًا، وَذٰلِکَ فِی الْجُمْلَۃِ کُلُّہٗ وِتْرٌ، وَقَوْلُہٗ : یَفْصِلُ بِتَسْلِیْمَۃٍ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ تِلْکَ التَّسْلِیْمَۃُ یُرِیْدُ بِہَا التَّشَہُّدَ، وَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ التَّسْلِیْمَ الَّذِیْ یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ . فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ فَإِذَا یُوْنُسُ ۔
١٦٢٤: سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) دو رکعت کے اور ایک رکعت کے مابین سلام سے فاصلہ کرتے تھے اور حضرت ابن عمر (رض) نے بتلایا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح کرتے تھے۔ اور حضرت ابن عمر (رض) نے بتلایا کہ آپ شفع اور وتر ٣ رکعت پڑھتے تھے اور یہ مجموعہ بھی وتر تھا۔ ابن عمر (رض) کا قول : ” کان یفصل بتسلیمۃ “ عین ممکن ہے کہ تسلیم سے تشہد مراد ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ سلام جس سے نماز کو منقطع کرتے ہیں۔ پس اس میں ہم غور کرتے ہیں۔ روایات ملاحظہ ہو۔
حاصل روایات : ان روایات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ابن عمر (رض) جفت و طاق دونوں طرح کی نماز پڑھتے اور وہ تمام کا تمام جفت سے ملا کر طاق ہوجاتا تھا اب رہی آخری روایت سالم کہ یفصل بتسلیمۃ تو اس میں دو معنی کا احتمال ہے۔
نمبر 1: اس سلام سے مراد تشہد ہو۔
نمبر 2: نماز کو منقطع کرنے والاسلام ہو چنانچہ اس کی تعیین مندرجہ ذیل روایت سے ہوجائے گی۔ روایت ملاحظہ ہو۔