۱۶۲۶ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ، قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ صَلَّی ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قَالَ : یَا غُلَامُ ارْحَلْ لَنَا ثُمَّ قَامَ فَأَوْتَرَ بِرَکْعَۃٍ .فَفِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ أَنَّہٗ کَانَ یُوْتِرُ بِثَلاَثٍ، وَلٰـکِنَّہٗ کَانَ یَفْصِلُ بَیْنَ الْوَاحِدَۃِ وَالْاِثْنَتَیْنِ، فَقَدْ اُتُّفِقَ عَنْہُ فِی الْوِتْرِ أَنَّہٗ ثَلاَثٌ .وَقَدْ جَائَ عَنْہُ مِنْ رَأْیِہِ أَیْضًا مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ قَوْلَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِیْ ذَکَرْنَاہُ کَمَا وَصَفْنَا أَنَّہٗ یَحْتَمِلُ مِنَ التَّأْوِیْلِ .
١٦٢٦: بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے دو رکعت نماز ادا کی پھر فرمایا اے لڑکے کجا وہ باندھو پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت سے اس کو وتر بنایا۔ یہ آثار واضح کر رہے ہیں کہ آپ تین رکعات وتر پڑھتے تھے۔ مگر دو رکعت اور ایک رکعت کے درمیان فاصلہ کرتے تھے۔ پس آپ وتروں کی رکعات کے تین ہونے پر متفق ہیں اور آپ کی وہ رائے جو روایت میں وارد ہے وہ ہمارے بیان کے مطابق تاویل کا احتمال رکھتی ہے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ٢؍٨٨۔
حاصل روایات : ان دو روایتوں سے ثابت ہوا کہ ابن عمر (رض) تین رکعت وتر پڑھتے مگر دو رکعت کے بعد سلام انقطاعی پھیرتے اور پھر ایک رکعت سے اس شفعہ کو طاق بنا لیتے یہ تین روایات فریق ثانی کی جماعت اول کے دلائل ہیں کہ وتر تو تین ہیں مگر دو سلام سے ہیں۔
جماعت دوم از فریق ثانی کی طرف سے جواب نمبر !: اگرچہ ان روایات سے ابن عمر (رض) کا تین وتر دو سلام سے پڑھنا معلوم ہو رہا ہے مگر تین وتر ایک سلام سے ثابت ہیں۔ روایت ملاحظہ ہو۔