۱۶۲۹ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ، قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ، قَالَ ثَنَا الْأَوْزَاعِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنِی الْمُطَّلِبُ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْمَخْزُوْمِیُّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ الْوِتْرِ، فَأَمَرَہٗ أَنْ یَفْصِلَ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنِّیْ لَأَخَافُ أَنْ یَقُوْلَ النَّاسُ ہِیَ الْبُتَیْرَائُ .فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا تُرِیْدُ سُنَّۃَ اللّٰہِ وَسُنَّۃَ رَسُوْلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ ھٰذِہِ سُنَّۃُ اللّٰہِ وَسُنَّۃُ رَسُوْلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فِیْ ذِکْرِہَا وِتْرَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَدُلُّ عَلٰی حَقِیْقَۃِ مَا ذَکَرْنَا .
١٦٢٩: مطلب بن عبداللہ المخزومی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر (رض) سے وتر کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا درمیان میں فاصلہ کرے اس آدمی نے کہا تو لوگ وتر کو بتیراء (دم کٹی) کہنا شروع کریں گے۔ تو حضرت ابن عمر (رض) نے کہا اگر تم وتر کا سنت طریقہ چاہتے ہو تو وہ یہی ہے اور سنت اللہ اور سنت رسول یہی ہے یعنی لوگ کچھ کہیں اس کو ترک نہیں کرسکتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز وتر کا تذکرہ فرمایا۔ اس میں حقیقت کی طرف راہنمائی ملتی ہے۔
تخریج : ٣؍٣٨‘ بیہقی۔
جواب : سابقہ صحیح اسناد سے ثابت ہے جبکہ اس کا مرکزی راوی مطلب بن عبداللہ خود بہت زیادہ تدلیس کرنے والا راوی ہے پس یہ روایت اس کے مقابلے میں متروک ہوگی پس ہمارا احتمال ثابت ہوجائے گا کہ تین وتر ایک سلام سے ہیں اور یہ بات دیگر صحابہ کرام (رض) کی روایات سے ثابت ہے جو آئندہ سطور میں پیش کی جا رہی ہیں۔