۱۶۴۲ : مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ مِنْہَا بِوَاحِدَۃٍ فَإِذَا فَرَغَ مِنْہَا اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّہِ الْأَیْمَنِ حَتّٰی یَأْتِیَہُ الْمُؤَذِّنُ فَیُصَلِّیَ رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ) .فَھٰذَا یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ عَلَی صَلَاتِہٖ قَبْلَ أَنْ یُبَدِّنَ فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ ہُوَ جَمِیْعَ مَا کَانَ یُصَلِّیْہِ مَعَ الرَّکْعَتَیْنِ الْخَفِیْفَتَیْنِ اللَّتَیْنِ کَانَ یَفْتَتِحُ بِہِمَا صَلَاتَہُ .وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ عَلَی صَلَاتِہٖ بَعْدَمَا بَدَّنَ فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ عَلٰی إِحْدٰی عَشْرَۃَ مِنْہَا تِسْعٌ فِیْہَا الْوِتْرُ، وَرَکْعَتَانِ بَعْدَہُمَا وَہُوَ جَالِسٌ عَلٰی مَا فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ سَلَمَۃَ وَعَلٰی مَا فِیْ حَدِیْثِ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ وَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ .غَیْرَ أَنَّ غَیْرَ مَالِکٍ رَوٰی ھٰذَا الْحَدِیْثَ فَزَادَ فِیْہِ شَیْئًا .
١٦٤٢: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کی نماز گیارہ رکعت ادا فرماتے اور ایک کو شفعہ کے ساتھ ملا کر وتر بنا لیتے جب آپ فارغ ہوجاتے تو دائیں پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آتا تو دو خفیف رکعتیں (فجر کی سنتیں) ادا فرماتے۔
تخریج : مسلم فی المسافرین نمبر ١٢١‘ ابو داؤد فی الصلاۃ نمبر ١٣٣٥‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ٢٠٨‘ نمبر ٤٤٠‘ نسائی فی قیام اللیل باب ٣٥۔
حاصل روایات : اس روایت میں دو احتمال ہیں۔
نمبر 1: ممکن ہے کہ یہ اس زمانے کی نماز کا ذکر ہو جب آپ کا جسم مبارک بوجھل نہ ہوا تھا تو اس پر یہ ان دو خفیف رکعات کے ساتھ جو آپ ادا فرماتے جن سے آپ اپنی نماز شروع فرماتے کل گیارہ رکعت وتر سمیت ہوں گی۔
نمبر 2: اس میں آپ کی اس وقت کی نماز کا تذکرہ ہو جس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بدن بھاری ہوگیا تو پھر گیارہ میں نو رکعت وتر سمیت ہوئیں اور دو وہ رکعتیں ہیں جو بیٹھ کر ادا فرماتے تھے جیسا کہ ابو سلمہ اور سعد بن ہشام اور عبداللہ بن شقیق کی روایات میں آیا ہے۔
البتہ مالک نے اس روایت کو نقل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کردیا۔