۱۶۴۴ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرِ ڑ الْعَقَدِیُّ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ بِإِسْنَادِہٖ .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ جَمِیْعَ مَا کَانَ یُصَلِّیْہِ بَعْدَ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ إِلَی الْفَجْرِ إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً .فَقَدْ عَادَ ذٰلِکَ إِلٰی حَدِیْثِ أَبِیْ سَلَمَۃَ وَعَلِمْنَا بِہٖ أَنَّ تِلْکَ الصَّلَاۃَ ہِیَ صَلَاتُہٗ بَعْدَمَا بَدَّنَ .وَأَمَّا قَوْلُہَا یُسَلِّمُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ فَإِنَّ ذٰلِکَ مُحْتَمَلٌ أَنْ یَکُوْنَ کَانَ یُسَلِّمُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ فِی الْوِتْرِ وَغَیْرِہِ فَیَثْبُتُ بِذٰلِکَ مَا یَذْہَبُ إِلَیْہِ أَہْلُ الْمَدِیْنَۃِ مِنَ التَّسْلِیْمِ بَیْنَ الشَّفْعِ وَالْوِتْرِ .وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ کَانَ یُسَلِّمُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ مِنْ ذٰلِکَ غَیْرَ الْوِتْرِ لِیَتَّفِقَ ذٰلِکَ، وَحَدِیْثُ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ، وَلَا یَتَضَادَّانِ، مَعَ أَنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنْ عُرْوَۃَ فِیْ ھٰذَا خِلَافُ مَا رَوَاہُ الزُّہْرِیُّ عَنْہُ .
١٦٤٤ : ابو عامر عقدی نے ابن ابی ذہب سے انھوں نے زہری سے اور زہری نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔ اس روایت سے معلوم ہو رہا ہے کہ عشاء کی نماز سے صبح صادق تک آپ کل گیارہ رکعت ادا فرماتے تھے پس اس روایت کا مفہوم روایت ابو سلمہ کی طرف لوٹ گیا کہ اس میں آپ کی اس وقت کی نماز کا تذکرہ ہے جب آپ کا جسم بھاری اور بوجھل ہوگیا تھا البتہ یسلم بین کل رکعتین اس میں دو احتمال ہیں۔ اس روایت میں یہ ہے کہ عشاء کے بعد صبح تک آپ جو نماز ادا فرماتے اس کی تعداد گیارہ رکعت تھی۔ یہ مفہوم ابو سلمہ کی روایت والا ہے اور ہم یہ بخوبی جان چکے ہیں کہ آپ ک یہ نماز جسم کے بھاری ہوجانے کے بعد تھی۔ رہا روایت کے یہ الفاظ ” یسلم بین کل رکعتین “ اس میں احتمال ہے آپ وتر اور غیر وتر کی ہر دو رکعت کے درمیان سلام پھیرتے تھے۔ اس سے اہل مدینہ والے وتر ثابت ہوجائیں گے کہ دو رکعت اور ایک کے بعد سلام پھیرا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہر دو رکعتوں کے مابین سلام پھیرتے جو وتر کے علاوہ ہوتیں ‘ تاکہ یہ روایت سعد کی روایت کے موافق ہوجائے اور ان میں تضاد نہ رہے اور اس بات کے ساتھ ساتھ کہ عروہ نے اس کے خلاف بھی روایت نقل کی ہے جو اس سے زہری نے نقل کی ہے۔ (فتدبر)
نمبر !: وتر وغیرہ اور ہر شفعہ کے بعد سلام پھیرتے تھے تو اس میں اہل مدینہ کا قول ثابت ہوجائے گا کہ وتروں میں دو سلام ہیں ایک شفعہ کے بعد اور ایک آخر میں۔
احتمال نمبر ": وتر کے علاوہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے اس سے یہ روایت سعد بن ہشام کی روایت کے عین مطابق ہوجائے گی اور ان میں تضاد نہ رہے گا حالانکہ عروہ کی دوسری روایت جس کو زہری نے نقل کیا ہے وہ اس کے خلاف ہے۔