۱۶۶۶ : وَحَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ قَالَا : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ ( ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : بِتُّ فِیْ بَیْتِ خَالَتِیْ مَیْمُوْنَۃَ ، فَصَلَّی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعِشَاء َ ، ثُمَّ جَاء َ فَصَلَّی أَرْبَعًا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی خَمْسَ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ نَامَ حَتّٰی سَمِعْتُ غَطِیْطَہُ أَوْ خَطِیْطَہُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاۃِ).فَفِیْ ہَذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ صَلَّی إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً مِنْہَا رَکْعَتَانِ بَعَدَ الْوِتْرِ .فَقَدْ وَافَقَ عَلِیَّ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ فِی التِّسْعِ الَّتِیْ مِنْ الْوِتْرِ وَزَادَ عَلَیْہِ رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَیَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ وِتْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُفْرَدًا مَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہٗ ثَلَاثٌ .فَمِنْ ذٰلِکَ
١٦٦٦ : ابوبکر نے ابن جبیر کی سند سے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ کے ہاں رات گزاری۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد تشریف لائے اور چار رکعت نماز ادا کی پھر آپ اٹھے اور پانچ رکعات ادا کیں پھر دو رکعت پڑھیں پھر آپ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹے سنے۔ پھر آپ صبح کی نماز کے لیے نکلے۔ اس روایت میں ہے کہ آپ نے گیارہ رکعت ادا فرمائیں۔ جن میں دو رکعت وتر کے بعد تھیں۔ پس علی بن عبداللہ کی روایت میں نو رکعت ہیں ‘ جن میں وتر بھی ہیں البتہ وتروں کے بعد دو رکعتوں کا اضافہ ہے۔ اور ابن جبیر ‘ یحییٰ بن جزار سے ابن عباس (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر سے الگ روایت کی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ وتر تین ہیں۔ ان میں سے بعض روایات یہ ہیں۔