۱۶۷۹ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثَنَا عِمْرَانُ ، فَذَکَرَ بِإِِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ إِلَّا أَنَّہٗ لَمْ یَقُلْ الْحِمَارُ .وَقَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُوْنَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَصَابَ مُعَاوِیَۃُ " عَلَی التَّقِیَّۃِ لَہٗ ، أَیْ أَصَابَ فِیْ شَیْء ٍ آخَرَ لِأَنَّہٗ کَانَ فِیْ زَمَنِہِ ، وَلَا یَجُوزُ عَلَیْہِ - عِنْدَنَا - أَنْ یَکُوْنَ مَا خَالَفَ فِعْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِی قَدْ عَلِمَہُ عِنْدَہُ صَوَابًا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی الْوِتْرِ أَنَّہٗ ثَلَاثٌ .
١٦٧٩ : ابو بکرہ نے عمران کی سند سے اسی طرح روایت کی ‘ مگر اس میں ” حمار “ کا لفظ نہیں۔ عین ممکن ہے ابن عباس کا قول ” اصاب معاویہ “ بطور توریہ ہو اور کسی چیز کا پالینا مراد ہو کیونکہ یہ ان کی حکومت کے زمانے کا واقعہ ہے۔ مگر ہمارے نزدیک یہ درست نہیں کیونکہ وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حاصل کیے ہوئے فعل کو کبھی ترک کرنے والے نہ تھے۔