۱۶۸۱ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ أَبِیْ یَحْیَی قَالَ : سَمَرَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حَتّٰی طَلَعَتِ الْحَمْرَاء ُ ثُمَّ نَامَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَلَمْ یَسْتَیْقِظْ إِلَّا بِأَصْوَاتِ أَہْلِ الزَّوْرَائِ فَقَالَ لِأَصْحَابِہِ أَتَرَوْنَنِی أُدْرِکُ أُصَلِّی ثَلَاثًا ، یُرِیْدُ الْوِتْرَ وَرَکْعَتَی الْفَجْرِ وَصَلَاۃَ الصُّبْحِ ، قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَالُوْا : نَعَمْ ، فَصَلَّی ، وَہَذَا فِیْ آخِرِ وَقْتِ الْفَجْرِ فَمُحَالٌ أَنْ یَکُوْنَ الْوِتْرُ عِنْدَہُ یُجْزِئُ فِیْہِ أَقَلُّ مِنْ ثَلَاثٍ ، ثُمَّ یُصَلِّیْہِ حِیْنَئِذٍ ثَلَاثًا مَعَ مَا یَخَافُ مِنْ فَوْتِ الْفَجْرِ فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلَی صِحَّۃِ مَا صَرَفْنَا إِلَیْہِ مَعَانِیْ أَحَادِیْثِہِ فِی الْوِتْرِ أَنَّہٗ ثَلَاثٌ .وَقَدْ رُوِیَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ فِی الْوِتْرِ أَیْضًا أَنَّہٗ ثَلَاثٌ ۔
١٦٨١ : ابن لہیعہ نے یزید کی سند سے ابو منصور سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ابو یحییٰ کہتے ہیں کہ ایک رات مسور بن مخرمہ اور ابن عباس (رض) رات کی باتوں میں مصروف ہوئے کہ سرخی نکل آئی۔ پھر ابن عباس (رض) سو گئے۔ اہل زوراء کی (اذان کی) آوازوں سے بیدار ہوئے۔ پھر کہنے لگے۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تین وتر اور دو رکعت سنت فجر اور نماز صبح پا سکوں گا اس سے پہلے کہ سورج طلوع ہو۔ تو لوگوں نے کہا جی ہاں۔ پس انھوں نے نماز ادا کی اور یہ فجر کی نماز آخری وقت تھا۔ پس یہ بات ناممکن ہوئی کہ ان کے ہاں وتر تین سے کم درست ہوں۔ اور پھر اس دن فجر کا وقت تنگ ہونے کے باوجود تین ہی پڑھیں۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جس معنی کی طرف ہم نے احادیث کا معنی لوٹایا ہے وہی صحیح ہے کہ وتر تین ہیں۔