۱۶۸۶ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَیَّانٍ عَنْ أَبِیْ غَالِبٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَۃَ کَانَ یُوْتِرُ بِثَلَاثٍ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الْوِتْرَ عِنْدَ أَبِیْ أُمَامَۃَ ہُوَ مَا ذَکَرْنَا ، وَمُحَالٌ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ عِنْدَہُ کَذٰلِکَ ، وَقَدْ عَلِمَ مِنْ فِعْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِلَافَہُ ، وَلَکِنْ مَا عَلِمَہُ مِنْ فِعْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعْنَاہُ مَا صَرَفَنَا إِلَیْہِ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا۔
١٦٨٦ : ابن مرزوق نے نقل کیا کہ ابو امامہ تین وتر ادا کرتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ فی الصلاۃ ٢/٢٩٣) اس سے یہ بات ثابت ہوگئی وتر ابو امامہ (رض) کے ہاں اتنے ہیں جو ہم نے ذکر کردیے۔ اور یہ ناممکن ہے کہ یہ اسی طرح ہوں۔ اس لیے کہ ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فعل تو اس کے خلاف معلوم ہوا۔ لیکن جو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فعل معلوم کیا ‘ اس کا معنی وہی ہے جس کی طرف ہم نے پھیرا اور موڑا ہے۔ واللہ اعلم