۱۶۸۸ : مَا حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ثَنَا جَرِیْرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیْدِ عَنْ
مَنْصُوْرٍ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ ( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوْتِرُ بِخَمْسٍ وَبِسَبْعٍ لَا یَفْصِلُ بَیْنَہُنَّ بِسَلَامٍ وَلَا کَلَامٍ).فَقَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُوْنَ ہَذَا قَبْلَ أَنْ یُحْکَمَ الْوِتْرُ فَکَانَ مَنْ شَاء َ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ ، وَمَنْ شَاء َ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ، وَکَانَ إِنَّمَا یُرَادُ مِنْہُمْ أَنْ یُصَلُّوْا وِتْرًا لَا عَدَدَ لَہٗ مَعْلُومٌ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ أَیُّوبَ مَا یَدُلُّ عَلَی أَنَٔ ذٰلِکَ کَانَ کَذٰلِکَ .
١٦٨٨ : مقسم نے حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانچ یا سات کو وتر بناتے اور ان کے مابین سلام و کلام سے فاصلہ نہ کرتے۔ اس میں یہ کہنا ممکن ہے کہ وتروں کے تعداد لازم ہونے سے پہلی کی بات
ہو۔ اور جو چاہتا پانچ وتر پڑھتا اور جو چاہتا سات وتر پڑھتا اس وقت مقصود طاق عدد پورا کرنا ہوتا تھا اس کی تعداد معلوم نہ تھی۔ حضرت ابو ایوب انصاری (رض) کی روایت دلالت کرتی ہے کہ یہ معاملہ اسی طرح تھا۔