۱۶۹۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ ، عَنْ زُبَیْدٍ ، فَذَکَرَ مِثْلَہٗ بِإِِسْنَادِہٖ .غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ : وَفِی الثَّانِیَۃِ ( قُلْ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ) یَعْنِی : ( قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ ) ، وَفِی الثَّالِثَۃِ : اللّٰہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ .فَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہٗ کَانَ یُوْتِرُ بِثَلَاثٍ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ
١٦٩٥ : حضرت زید (رح) نے اپنی اسناد کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے البتہ اتنا فرق ہے کہ دوسری میں قل للذین کفروا یعنی الکافرون اور تیسری میں اللّٰہ الواحد یعنی قل ھو اللہ پڑھی ہے۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ وہ تین وتر پڑھتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس سلسلہ میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت کی ہے۔