۱۶۹۹ : مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہُ ح .وَحَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ ، قَالَ : ثَنَا مَالِکٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ ، قَالَ : أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ وَتَمِیْمَ الدَّارِیَّ أَنْ یَقُومَا لِلنَّاسِ بِإِِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً قَالَ : فَکَانَ الْقَارِئُ یَقْرَأُ بِالْمِئِیْنِ حَتّٰی یَعْتَمِدَ عَلَی الْعَصَا مِنْ طُوْلِ الْقِیَامِ ، وَمَا کُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّا فِیْ فُرُوعِ الْفَجْرِ .فَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُمْ کَانُوْا یُوْتِرُوْنَ بِثَلَاثٍ لِأَنَّہٗ لَا یَجُوزُ أَنْ یَکُوْنُوْا کَانُوْا یُصَلُّوْنَ شَفْعًا وَاحِدًا ثُمَّ یَنْصَرِفُوْنَ عَلَیْہِ حَتّٰی یَصِلُوْہُ بِشَفْعٍ آخَرَ۔
١٦٩٩ : یونس نے اپنے استاد کے ساتھ ساتب یزید نے نقل کیا کہ حضرت عمر (رض) نے ابی بن کعب اور تمیم داری (رض) کو گیارہ رکعت قیام اللیل کا حکم فرمایا۔ قاری سو سو آیات والی سورتیں تلاوت کرتے ‘ لوگ لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے کیونکہ قیام طویل ہوتا اور فجر قریب ہم گھروں کو لوٹتے۔ یہ روایت دلالت کر رہی ہے کہ وہ تین وتر پڑھتے تھے کیونکہ یہ تو درست نہیں کہ وہ ایک شفعہ پڑھتے پھر لوٹ کر اسے دوسرے شفعہ کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہوں۔