۱۷۰۱ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ خَلْدَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا الْعَالِیَۃِ عَنْ الْوِتْرِ ، فَقَالَ : عَلَّمَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْ عَلَّمُوْنَا أَنَّ الْوِتْرَ مِثْلُ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ ، غَیْرَ أَنَّا نَقْرَأُ فِی الثَّالِثَۃِ ، فَہَذَا وِتْرُ اللَّیْلِ ، وَہَذَا وِتْرُ النَّہَارِ .
١٧٠١ : ابوبکرہ نے ابو خالد سے نقل کیا کہ میں نے ابو العالیہ (رح) سے وتر کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا ہم نے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سیکھا اور تم ہم سے سیکھ لو کہ وتر نماز مغرب کی طرح ہیں سوائے اس بات کے کہ مغرب کی تیسری میں ہم قرأت نہیں کرتے۔ پس یہ دن کے وتر ہیں اور وہ رات کے وتر ہیں (ان کی تیسری رکعت میں قرأت کرتے ہیں) ۔