۱۷۳۲: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ یَحْیَی بْنِ جُنَادَۃَ الْبَغْدَادِیُّ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسِ ڑ الْأَنْصَارِیُّ، قَالَ : سَمِعْتُ طَلْحَۃَ بْنَ خِرَاشٍ یُحَدِّثُ عَنْ جَابِرٍ (أَنَّ رَجُلًا قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیَ الْفَجْرِ فَقَرَأَ فِی الْأُوْلٰی (قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ) حَتَّی انْقَضَتْ السُّوْرَۃُ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھٰذَا عَبْدٌ آمَنَ بِرَبِّہِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فِی الْآخِرَۃِ (قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ) حَتَّی انْقَضَتْ السُّوْرَۃُ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھٰذَا عَبْدٌ عَرَفَ رَبَّہُ) قَالَ طَلْحَۃُ : فَأَنَا أَسْتَحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ ہَاتَیْنِ السُّوْرَتَیْنِ فِیْ ہَاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ .فَفِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ فِیْ بَعْضِہَا أَنَّہٗ قَرَأَ بِ (قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ) وَ (قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ) وَفِیْ بَعْضِہَا أَنَّہٗ قَرَأَ بِغَیْرِ ذٰلِکَ وَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ نَفْیُ أَنْ یَکُوْنَ قَدْ قَرَأَ فَاتِحَۃَ الْکِتَابِ مَعَ مَا قَرَأَ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ .فَقَدْ ثَبَتَ بِمَا وَصَفْنَا أَنَّ تَخْفِیْفَہُ ذٰلِکَ کَانَ تَخْفِیْفًا مَعَہُ قِرَائَ ۃٌ وَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا مِنْ قِرَائَ تِہِ غَیْرَ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ نَفْیُ قَوْلِ مَنْ کَرِہَ أَنْ یُقْرَأَ فِیْہِمَا غَیْرُ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَثَبَتَ أَنَّہُمَا کَسَائِرِ التَّطَوُّعِ وَأَنَّہٗ یَقْرَأُ فِیْہِمَا کَمَا یَقْرَأُ فِی التَّطَوُّعِ وَلَمْ نَجِدْ شَیْئًا مِنْ صَلَوَاتِ التَّطَوُّعِ لَا یَقْرَأُ فِیْہِ بِشَیْئٍ وَیَقْرَأُ فِیْہِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ خَاصَّۃً .وَلَمْ نَجِدْ شَیْئًا مِنَ التَّطَوُّعِ کُرِہَ أَنْ یَمُدَّ فِیْہِ الْقِرَائَ ۃَ .بَلْ قَدْ اُسْتُحِبَّ طُوْلُ الْقُنُوْتِ، وَرُوِیَ ذٰلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ.
١٧٣٢: طلحہ بن حراش نے حضرت جابر سے بیان کیا کہ ایک آدمی اٹھا اور فجر کی دو رکعت ادا کی اور پہلی میں قل ایہا الکافرون پڑھی جب سورة مکمل ہوئی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اپنے ربّ پر ایمان لایا ہے پھر اٹھا اور دوسری رکعت میں قل ہو اللہ احد پڑھی جب سورة ختم ہوئی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس بندے نے اپنے رب کو پہچانا طلحہ کہنے لگے میں ان دو سورتوں کا ان دو رکعتوں میں پڑھنا مستحب خیال کرتا ہوں۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اور ابو بکرہ (رض) کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے قل یا ایھا الکافرون اور قل ھو اللہ اور تلاوت فرمائی۔ پس اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ آن میں اسی طرح کرتے جیسا دیگر تمام نمازوں میں قراءت کرتے تھے۔ اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ کیا حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے علاوہ سے بھی کوئی روایت اس سلسلہ میں آئی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
حاصل روایات : بعض آثار میں قل یا ایہا الکافرون اور قل ہو اللہ احد اور بعض میں دیگر آیات کا پڑھنا وارد ہے اور اس میں اس بات کی نفی نہیں کہ انھوں نے فاتحہ الکتاب اس سمیت پڑھی ہو جو کچھ کہ انھوں نے دوسری آیات سے پڑھا۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آپ نے قراءت میں تخفیف کی اور فاتحہ کے علاوہ سورة یا آیات کے پڑھنے سے ان لوگوں کی بات کی نفی ہوگئی جو فاتحہ الکتاب کے علاوہ پڑھنے کے قائل نہیں پس اس سے ظاہر ہوا کہ یہ دوسرے نوافل کی طرح ہیں اور نوافل کی طرح ان میں قراءت کو طویل و قصیر کرسکتا ہے ہمیں تو کوئی ایسی نفلی نماز نہیں ملی جس میں کوئی قراءت نہ کی جائے صرف فاتحہ الکتاب پڑھی جائے اور نوافل میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتے جس میں قراءت دراز کرنا مکروہ ہو بلکہ طویل قراءت تو اس میں مستحب ہے جیسا کہ یہ روایات ثابت کر رہی ہیں۔