hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1798

.

الطحاوي

1798
Al Tahawi
۱۷۹۸: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ، قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ جَدَّتَہٗ مُلَیْکَۃَ دَعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْہُ، فَأَکَلَ مِنْہُ، ثُمَّ قَالَ : قُوْمُوْا فَلْأُصَلِّ لَکُمْ، قَالَ أَنَسٌ : فَقُمْتُ إِلٰی حَصِیْرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُوْلِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُہُ بِمَائٍ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْیَتِیمُ وَرَائَ ہُ، وَالْعَجُوْزُ مِنْ وَرَائِنَا، فَصَلّٰی بِنَا رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ) .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَإِنَّ فِعْلَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ھٰذَا الَّذِیْ وَصَفْنَا بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ مَا عَمِلَ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ ہُوَ النَّاسِخُ .قِیْلَ لَہٗ : فَقَدْ رُوِیَ عَنْ غَیْرِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ فَعَلَ بَعْدَ مَوْتِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ مِثْلَ مَا رَوٰی جَابِرٌ وَأَنَسٌ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَإِنْ کَانَ مَا رُوِیَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ فِعْلِہٖ بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَلِیْلًا عِنْدَکَ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ ہُوَ النَّاسِخُ، کَانَ مَا رُوِیَ عَنْ غَیْرِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ ذٰلِکَ دَلِیْلًا عِنْدَ خَصْمِکَ أَنَّ ذٰلِکَ ہُوَ النَّاسِخُ. فَمِمَّا رُوِیَ عَنْ غَیْرِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ح .
١٧٩٨: عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک (رض) سے نقل کیا ہے کہ میری دادی ملیکہ نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے آپ کے لیے تیار کیا تھا آپ نے وہ کھانا کھایا پھر فرمایا تم اٹھو تاکہ میں تمہارے لیے نماز پڑھ دوں۔ انس کہتے ہیں میں نے چٹائی اٹھائی جو زیادہ استعمال کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی میں نے اس پر ذرا سا پانی چھڑکا پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور میں نے اور یتیم نے صف بندی کی اور بڑھیا ہمارے پیچھے صف میں تھی آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ واپس تشریف لے گئے۔ اگر کسی شخص کو یہ اعتراض ہو کہ جناب ابن مسعود (رض) کا یہ عمل حضرت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کا عمل ہے۔ یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ عمل ماقبل کی روایات کا ناسخ ہے۔ ہم اس معترض کے جواب میں کہیں گے کہ حضرت ابن مسعود (رض) کے علاوہ دیگر صحابہ کرام (رض) سے بھی مروی ہے کہ انھوں نے یہ عمل جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد یہ عمل کیا جیسا کہ جابر اور انس (رض) ۔ پس اگر ابن مسعود (رض) کا فعل جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ناسخ ہونے کا ثبوت ہے تو پھر ان کے علاوہ دیگر صحابہ کرام سے مروی عمل بھی آپ کے مخالف کے ہاں ناسخ ہونے کی دلیل ہے۔ پس ابن مسعود (رض) کے علاوہ جن سے منقول ہے وہ ملاحظہ ہو۔
تخریج : بخاری ١؍٥٥‘ مسلم ١؍٢٣٤‘ ابو داؤد ١؍٩٠‘ ترمذی ١؍٥٥۔
اشکال :
ان روایات میں جو کچھ مذکور ہے یہ پہلے کے اعمال ہیں اور روایت حضرت ابن مسعود (رض) میں ان کا جو فعل ثابت ہو رہا ہے وہ زمانہ نبوت کے بعد کا ہے پس وہ اس کے لیے اس لیے ناسخ ہے کہ وہ آخری عمل ہے۔
: ابن مسعود (رض) کے علاوہ بہت سے صحابہ کرام سے اس عمل کا کرنا ثابت ہوتا ہے جیسا کہ جابر اور انس (رض) کے اعمال ظاہر کرتے ہیں تو اب اگر روایت ابن مسعود (رض) ناسخ ہے تو ان کے اعمال مذکورہ بھی نبوت کے زمانہ کے بعد ثابت ہیں تو وہ کیونکر ناسخ نہیں۔ ماہو جوابکم فہو جوابنا۔