hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1816

.

الطحاوي

1816
Al Tahawi
۱۸۱۶: فَإِذَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حُرَّۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی بِأَصْحَابِہٖ صَلَاۃَ الْخَوْفِ فَصَلّٰی بِطَائِفَۃٍ مِنْہُمْ رَکْعَۃً، وَکَانَتْ طَائِفَۃٌ بِإِزَائِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا صَلّٰی بِہِمْ رَکْعَۃً سَلَّمَ، فَنَکَصُوْا عَلٰی أَعْقَابِہِمْ حَتَّی انْتَہَوْا إِلٰی إِخْوَانِہِمْ، ثُمَّ جَائَ الْآخَرُوْنَ فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَۃً ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ کُلُّ فَرِیْقٍ، فَصَلَّوْا رَکْعَۃً رَکْعَۃً) .فَقَدْ أَخْبَرَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہُمْ قَضَوْا، وَبَیَّنَ مَا وَصَفْنَا أَنَّہٗ یُحْتَمَلُ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ وَکَانَ قَوْلُہٗ (ثُمَّ سَلَّمَ بَعْدَ الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی) یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ سَلَامًا لَا یُرِیْدُ بِہٖ قَطْعَ الصَّلَاۃِ وَلٰـکِنْ یُرِیْدُ بِہٖ إِعْلَامَ الْمَأْمُوْمِیْنَ مَوْضِعَ الْاِنْصِرَافِ.
١٨١٦: حسن نے حضرت ابی موسیٰ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ (رض) کو خوف کی نماز پڑھائی پس ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی ایک گروہ دشمن کے مقابل تھا جب آپ نے ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیرا پھر ایک گروہ گھڑا ہوا اور انھوں نے ایک ایک رکعت ادا کی۔ اس حدیث سے یہ اطلاع میسر آگئی کہ انھوں نے بقیہ نماز کو پورا کیا۔ ہم نے پہلی روایات میں جو احتمال نقل کیا ہے وہ بھی مذکور ہے۔ باقی روایت میں ” ثم سلّم بعد الرکعۃ الاولٰی “ میں یہ احتمال ہے کہ اس سلام سے نماز توڑنے کا ارادہ نہیں فرمایا بلکہ مقتدیوں کو لوٹنے کا مقام بتلانے کے لیے سلام فرمایا۔
تخریج : طیالسی ١؍٢٤٧‘ ابن ابی شیبہ ٢؍٢١٥۔
حاصل روایات : اس روایت میں ایک ایک رکعت امام کے ساتھ ادا کرنے کے بعد دوسری رکعت پوری کرنے کی صراحت ہے اور اس روایت نے اس بات کو کھول دیا جو کہ پہلی روایات کے سلسلہ میں ہم بیان کر آئے اس روایت میں سلام کا تذکرہ ہے ممکن ہے کہ یہ سلام انقطاع صلوۃ کے لیے نہ ہو بلکہ مقتدیوں کو واپسی کی اطلاع کے لیے ہو تاکہ وہ دشمن کے سامنے لوٹ جائیں اور دوسرا گروہ ان کی جگہ آجائے۔
مزید روایات ملاحظہ ہوں۔