۱۸۱۹: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ، قَالَ : ثَنَا بَکْرُ بْنُ بَکَّارِ ڑالْقَیْسِیُّ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الْحُسَیْنِ، قَالَ : ثَنَا خُصَیْفٌ عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ : لَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃَ الْخَوْفِ فِیْ حَرَّۃِ بَنِیْ سُلَیْمٍ، ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَہٗ، غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ (وَکُلُّہُمْ فِیْ صَلَاۃٍ) وَزَادَ : (وَکَانُوْا فِیْ غَیْرِ الْقِبْلَۃِ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَقَدْ أَخْبَرَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہُمْ قَضَوْا رَکْعَۃً رَکْعَۃً، وَأَخْبَرَ أَنَّہُمْ دَخَلُوْا فِی الصَّلَاۃِ جَمِیْعًا .فَقَدْ ثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا مِنَ الْآثَارِ أَنَّ صَلَاۃَ الْخَوْفِ رَکْعَتَانِ، غَیْرَ أَنَّ حَدِیْثَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ذَکَرَ فِیْہِ دُخُوْلَہُمْ فِی الصَّلَاۃِ مَعًا .فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ، ہَلْ عَارَضَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ غَیْرَہٗ فِیْ ھٰذَا الْمَعْنَی؟ فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ۔
١٨١٩: ابو عبیدہ نے عبداللہ (رض) سے نقل کیا کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرہ بنی سلیم میں صلوۃ الخوف پڑھائی پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ البتہ اس روایت میں وکلہم فی صلوۃ کا جملہ نقل نہیں کیا اور یہ اضافہ نقل کیا ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں اس حدیث میں صاف بتلایا گیا ہے کہ انھوں نے ایک ایک رکعت مزید ادا کی اور یہ بھی بتلایا گیا کہ وہ تمام ایک نماز میں داخل ہوئے۔ پس ان روایاتِ مذکورہ سے ثابت ہوگیا کہ نماز خوف کی دو رکعت ہیں البتہ ابن مسعود (رض) کی روایت میں ان تمام کے نماز میں ایک ہی وقت میں داخلے کا ذکر ہے۔ پس ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مندرجہ مفہوم میں یہ روایت دوسری روایات کے خلاف تو نہیں ‘ تو تلاش کرنے پر روایات مل گئیں۔
وکانوا فی غیرالقبلہ “ حرۃ سیاہ پتھریلی زمین۔
تخریج : سابقہ تخریج کو سامنے رکھیں۔ ابو داؤد ١؍١٧٦۔
حاصل روایات :
ان روایات میں امام کے ساتھ پڑھنے کے علاوہ ایک ایک رکعت کے پورا کرنے کا تذکرہ موجود ہے جس سے سابقہ روایات کا حل نکل رہا ہے۔
ایک اعتراض :
روایت ابن مسعود (رض) کا جملہ دخولہم فی الصلوٰۃ معاً “ بقیہ روایت تو مؤقف ثانی کے موافق ہے مگر یہ جملہ اس کے خلاف ہے۔
الجواب نمبر !: ہم اس جملے کی پڑتال کے لیے دیگر روایات پر غور کرتے ہیں تاکہ راوی کے اس اضافہ کی حقیقت ظاہر ہوجائے ملاحظہ فرمائیں۔ روایت حضرت ابن عمر (رض) ۔