hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1828

.

الطحاوي

1828
Al Tahawi
۱۸۲۸: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمُقْرِیُٔ قَالَ : ثَنَا حَیْوَۃُ وَابْنُ لَہِیْعَۃَ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْأَسَدِیُّ أَنَّہٗ سَمِعَ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یُحَدِّثُ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ أَنَّہٗ (سَأَلَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ہَلْ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃَ الْخَوْفِ؟ قَالَ : نَعَمْ، قَالَ مَرْوَانُ مَتَی؟ قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَامَ غَزْوَۃِ نَجْدٍ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقَامَتْ مَعَہُ طَائِفَۃٌ، وَطَائِفَۃٌ أُخْرَی مُقَابِلُو الْعَدُوِّ وَظُہُوْرُہُمْ إِلَی الْقِبْلَۃِ فَکَبَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَبَّرُوْا جَمِیْعًا مَعَہٗ وَالَّذِیْنَ مُقَابِلُو الْعَدُوِّ ثُمَّ رَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَۃً وَاحِدَۃً وَرَکَعَتْ مَعَہُ الطَّائِفَۃُ الَّتِیْ تَلِیْہِ ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَتْ مَعَہُ الطَّائِفَۃُ الَّتِیْ تَلِیْہِ، وَالْآخَرُوْنَ قِیَامٌ مُقَابِلُو الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَامَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِیْ مَعَہٗ فَذَہَبُوْا إِلَی الْعَدُوِّ فَقَابَلُوْہُمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِیْ کَانَتْ مُقَابِلِیْ الْعَدُوِّ فَرَکَعُوْا وَسَجَدُوْا، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ کَمَا ہُوَ، ثُمَّ قَامُوْا فَرَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَۃً أُخْرٰی فَرَکَعُوْا مَعَہٗ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوْا مَعَہٗ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَۃُ الْأُخْرٰی الَّتِیْ کَانَتْ مُقَابِلِیْ الْعَدُوِّ فَرَکَعُوْا وَسَجَدُوْا، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ مَعَہٗ، فَسَلَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوْا مَعَہٗ جَمِیْعًا، فَکَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَانِ، وَلِکُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَیْنِ رَکْعَتَانِ رَکْعَتَانِ).
١٨٢٨: عروہ بن زبیر مروان بن الحکم سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سوال کیا کہ کیا تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صلوۃ خوف پڑھی ہے ؟ تو انھوں نے کہا جی ہاں۔ مروان نے سوال کیا کب ؟ تو ابوہریرہ (رض) نے کہا غزوہ نجد کے موقعہ پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز عصر کے لیے کھڑے ہوئے اور ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری جماعت دشمن کے بالمقابل کھڑی تھی ان کی پشتیں قبلہ کی طرف تھیں پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور ان تمام نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی ان سمیت جو دشمن کے مقابلے تھے۔ پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کیا اور ایک رکعت اپنے ساتھ والی جماعت کو مکمل کرائی اور سجدہ کیا پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ والا گروہ بھی کھڑا ہوا اور دشمن کی طرف جا کر اس کے مقابل صف بستہ ہوگئے اور دوسرا گروہ آیا جو کہ پہلے دشمن کے سامنے کھڑا تھا پس انھوں نے آ کر رکوع کیا اور سجدہ کیا اس حال میں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیام کی حالت میں تھے پھر یہ رکعت مکمل کر کے کھڑے ہوگئے پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسری رکعت ادا فرمائی اور انھوں نے بھی آپ کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی پھر انھوں نے آپ کے سجدہ کے ساتھ سجدہ کیا اور پہلا گروہ جو دشمن کے سامنے تھا وہ آیا اور انھوں نے رکوع سجدہ کیا اس حال میں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالت تشہد میں تھے اور دوسری جماعت بھی آپ کے ساتھ تھی پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو رکعتیں ہوئی اور ہر گروہ کی بھی دو دو رکعت ہوئیں۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ ١٢٤٠‘ نسائی فی السنن کتاب صلوۃ الخوف ١٩٣۔