۱۸۳۶: حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ، قَالَ : ثَنَا حِبَّانُ یَعْنِی : ابْنَ ہِلَالٍ، قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ، قَالَ : ثَنَا قَتَادَۃُ، عَنْ عَامِرِ ڑالْأَحْوَلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَیْمَنَ الْمَعَافِرِیِّ، قَالَ : کَانَ أَہْلُ الْعَوَالِیْ یُصَلُّوْنَ فِیْ مَنَازِلِہِمْ، وَیُصَلُّوْنَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَہَاہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُعِیْدُوْا الصَّلَاۃَ فِیْ یَوْمٍ مَرَّتَیْنِ .قَالَ عَمْرٌو : قَدْ ذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِسَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ : صَدَقَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ فِیْ ھٰذَا مَا یَدُلُّ عَلٰی غَیْرِ ھٰذَا الْمَعْنَی .
١٨٣٦: عمرو بن شعیب نے خالد بن ایمن المعافری (رض) سے نقل کیا کہ اہل موالی اپنے گھروں میں نماز پڑھتے اور (پھر آ کر) جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز ادا کرتے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دن میں دو مرتبہ ایک فرض نماز پڑھنے سے منع فرمایا عمرو کہتے ہیں میں نے یہ بات سعید بن المسیب (رح) کو نقل کی تو انھوں نے کہا خالد نے سچ فرمایا ہے۔ اور حضرت جابر (رض) سے اس کے خلاف روایت آئی ہے جو اور مفہوم پر دلالت کرتی ہے۔
ایک اور انداز سے ابوبکر و جابر (رض) کی روایت کا جواب :
خود حضرت جابر (رض) کی روایت اس مفہوم کو نادرست قرار دیتی ہے جو فریق رابع نے روایت حضرت جابر (رض) سے اخذ کیا ہے۔ روایت حضرت جابر (رض) ملاحظہ ہو۔