۱۸۳۹: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا قَبِیْصَۃُ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ، عَنْ مَنْصُوْرٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنْ أَبِیْ عَیَّاشٍ الزُّرَقِیِّ، قَالَ : (صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الظُّہْرَ بِ عُسْفَانَ وَالْمُشْرِکُوْنَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ، فِیْہِمْ أَوْ عَلَیْہِمْ، خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ، فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ : لَقَدْ کَانُوْا فِیْ صَلَاۃٍ لَوْ أَصَبْنَا مِنْہُمْ لَکَانَتَ الْغَنِیمَۃُ .فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ إِنَّہَا سَتَجِیْئُ صَلَاۃٌ ہِیَ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ آبَائِہِمْ وَأَبْنَائِہِمْ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بِالْآیَاتِ فِیْمَا بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ .قَالَ : فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، وَصَفَّ النَّاسُ صَفَّیْنِ، وَکَبَّرَ وَکَبَّرُوْا مَعَہٗ جَمِیْعًا، ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعُوْا مَعَہٗ جَمِیْعًا ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعُوْا مَعَہٗ جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِیْ یَلُوْنَہُ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ یَحْرُسُوْنَہُمْ بِسِلَاحِہِمْ، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعُوْا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ الصَّفُّ الْآخَرُ ثُمَّ رَفَعُوْا .وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، فَکَبَّرَ وَکَبَّرُوْا مَعَہٗ جَمِیْعًا، ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعُوْا مَعَہٗ جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعُوْا مَعَہٗ جَمِیْعًا، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَیْہِمْ وَصَلَّاہَا مَرَّۃً أُخْرٰی فِیْ أَرْضِ بَنِیْ سُلَیْمٍ) .
١٨٣٩: مجاہد نے ابو عیاش زرقی (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں مقام عسفان میں ظہر کی نماز پڑھائی جبکہ مشرکین آپ کے سامنے قبلہ والی جانب تھے ان کے کمانڈر خالد بن ولید تھے (جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے) مشرکین نے کہا یہ لوگ نماز میں تھے اگر ہم ان پر حملہ کرتے تو بڑی غنیمت بات تھی پھر مشرکین کہنے لگے ابھی ان کی دوسری نماز آرہی ہے وہ ان کو اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ صحابہ (رض) کہتے ہیں کہ ظہر و عصر کے درمیان جبرائیل (علیہ السلام) نماز خوف کا حکم لے کر نازل ہوئے ابو عیاش کہتے ہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی لوگوں کی دو جماعتیں بنادیں آپ نے تکبیر کہی اور تمام نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی پھر آپ نے رکوع کیا اور سب نے آپ کے ساتھ رکوع کیا پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا سب نے رکوع سے سر اٹھایا پھر آپ نے سجدہ کیا تو صف اول نے سجدہ کیا اور پچھلی صف کھڑی رہی وہ اپنے ہتھیاروں سے ان کی حفاظت کر رہی تھی پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا اور انھوں نے بھی سجدہ سے سر اٹھایا پھر دوسری صف والوں نے سجدے کر کے اس سے سر اٹھایا۔ اب پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری آگے آگئی آپ نے دوسری رکعت کی تکبیر کہی تمام نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی پھر جب آپ نے رکوع کیا تو تمام نے آپ کے ساتھ رکوع کیا پھر آپ نے سر اٹھایا تو تمام نے آپ کے ساتھ سر اٹھایا پھر آپ نے سلام پھیرا۔ پھر آپ نے دوسری مرتبہ سر زمین بنی سلیم میں یہ نماز ادا فرمائی۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ نمبر ١٢٣٦‘ نسائی فی السنن کتاب صلوۃ الخوف نمبر ١٩٣٧۔