hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1847

.

الطحاوي

1847
Al Tahawi
۱۸۴۷: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ ظَفَرٍ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَہَّرٍ، قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ (إِنِّیْ لَقَائِمٌ عِنْدَ الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ، فَقَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْمَسْجِدِ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، حُبِسَ الْمَطَرُ وَہَلَکَتِ الْمَوَاشِیْ فَادْعُ اللّٰہَ یَسْقِیْنَا فَرَفَعَ یَدَیْہِ وَمَا فِی السَّمَائِ مِنْ سَحَابٍ، فَأَلَّفَ اللّٰہُ بَیْنَ السَّحَابِ فَوَبَلَتْنَا حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ لَیُہِمُّہُ مِنْ نَفْسِہِ أَنْ یَأْتِیَ أَہْلَہٗ، فَمُطِرْنَا سَبْعًا، قَالَ : فَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ فِی الْجُمُعَۃِ الثَّانِیَۃِ ؛ اِذْ قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْمَسْجِدِ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، تَہَدَّمَتَ الْبُیُوْتُ، فَادْعُ اللّٰہَ أَنْ یَرْفَعَہَا عَنَّا، قَالَ : فَرَفَعَ یَدَیْہِ، وَقَالَ : اللّٰہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا فَتَقَوَّرَ مَا فَوْقَ رُؤُسِنَا مِنْہَا، حَتَّی کَانَا فِیْ إِکْلِیْلٍ یُمْطِرُ مَا حَوْلَنَا وَلَا نُمْطَرُ) .
١٨٤٧: ثابت نے حضرت انس (رض) سے نقل کیا ہے کہ میں منبر کے پاس کھڑا تھا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے خطبہ دے رہے تھے مسجد میں سے کسی نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بارش بند ہے مویشی (چار نہ ہونے کی وجہ سے) ہلاک ہوگئے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ بارش کر دے پس آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اس وقت آسمان پر ذرہ بھر بادل نہ تھا اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو جمع کردیا پھر خوب بارش ہوئی یہاں تک کہ ہر شخص کو فکر تھی کہ وہ اپنے گھر جائے۔ پورا ہفتہ بارش رہی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگلے جمعہ کو خطبہ دے رہے تھے جبکہ مسجد میں سے کسی نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مکانات گرگئے آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ بارش کو ہٹا دے۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا فرمائی اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا۔ نہ کہ ہم پر چنانچہ بادل ہمارے سروں کے اوپر سے پھٹ گیا یہاں تک کہ گویا ہم چمکتے سورج کے مزین تاج میں ہیں کہ ہمارے اطراف میں تو بارش ہو رہی تھی مدینہ میں بارش نہ تھی۔
تخریج : ابن ماجہ فی الاقامہ باب ١٥٤‘ ابو داؤد فی الاستسقاء باب ٢‘ نمبر ١١٧٤‘ نسائی فی الاستسقاء باب ٩‘ ١٠‘ مسند احمد ٣؍١٠٤۔
اللغات : وہم یہم۔ یا ہم یہم۔ خیال کرنا ‘ ارادہ کرنا۔ تقور۔ متفرق ‘ منتشر ہونا۔ اکلیل۔ تاج۔